اسی سیر کے دوران کے مزید ملفوظات بد رسے :۔
کلمہ طیبہ کی اصل روح :۔
میں ۲؎ نے عرض کیا کہ حضور لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ بار بار پڑھنے اور اس کے ذکر کا بھی ثواب ہے یا نہیں؟ فرمایا:۔
دل میں خدا تعالیٰ سے تعلق ہو تو
پھر زیادہ تشریح طلب کرنے پر فرمایا:۔
اصل بات یہ ہے کہ میرا مذہب یہ نہیں کہ زبانی جمع خرچ کیا جاوے ۔ ان طریقوں میں بہت سی غلطیاں ہیں ان تمام اذکار کی اصل روح اس پر عمل کرنا ہے۔ ایک دفعہ صحابہ اکرمؓ اللہ بآواز بلند کہہ رہے تھے تو حضرتؑ نے فرمایا تمہار اخدا بہرہ نہیں۔ تو مطلب یہ ہے کہ کلمہ سے مراد ہے توحید کو قائم رکھنا اور س کے رسول کی اطاعت ۔ اب ثواب اس میں ہے کہ ہر بات میں اللہ کو مقدم رکھے اور اللہ پر پورا پورا ایمان لائے۔ اس کی صفات کے خلاف کوئی کلام کوئی کام نہ کرے حتیٰ کہ خیال بھی نہ لائے ۔ وہ جو اللہ تعالیٰ فرماتاہے رِجَالٌ لَّا تُلْھِیْھِمْ تِجَارَۃٌ وَّلَا بَیْعٌ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ ( النور: ۳۸)اس سے بھی یہی مراد ہے کہ دُنیا کے کاموں میں بھی میرے احکام کو نہیں بھلاتے ۔ دیکھو اس وقت ہم ان طریقوں کی طرح ذکر نہیں کر رہے مگر حقیقت میں اسی کو عظمت و جلال کا ذکر ہے۔ پس یہی ذکر ہے۔‘‘۱؎
الہام کا معاملہ بڑا نازک ہوتاہے:۔
ایک صاحب نے ایک شخص مرید کے کچھ الہامات حضرت اقدس کو سنائے ۔۲؎