ہے کہ میں دوسرا نکاح کرسکتا ہوں یا نہیں؟ حضرت نے فرمایا:۔ اس کو بہر صورت اختیار ہے (۲) سوال پیش ہوا کہ بعض لوگ یہ عذر کرتے ہیں کہ جس کی عورت آگے موجود ہو اس کو ہم ناطہ نہیں دیتے ۔ حضرت نے فرمایا:۔ پھر وہ اس سے تو مَثْنٰی وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ (النسآئ:۴) کو بندکرنا چاہتے ہیں۔ (۳) پھر ایک شخص کا سوال پیش ہوا کہ مجھ سے گناہ ہوجاتا ہے اور پھر توبہ کرلیتا ہوں۔ پھر گناہ ہوجاتا ہے کیا علاج کروں؟ حضرت نے فرمایا :۔ پھر توبہ کرے اور اس کا کیا علاج ہے؟ (۴) سوال پیش ہوا کہ بندوق کے شکار کے متعلق کیا حکم ہے؟ حضرت نے فرمایا:۔ تکبیر پڑھ کر بندوق مارے ‘شکار مرجاوے تو حلال ہے ۱؎ ۲۹؍جنوری ۱۹۰۷ئ؁ (صبح کی سیر) دشنام دہی کا انجام:۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بوقت صبح مع احباب باہر سیر کو تشریف لے گئے ۔ مرتد ڈاکٹر عبدالحکیم کے تذکرہ پر حضرت نے فرمایا کہ :۔ ایک آریہ اخبار نے باوجود ہمارے مذہبی تخالف کے لکھا کہ عبدالحکیم کا آپ کو گولیاں دینا اس کی سِفلہ پنی کو ظاہر کرتاہے ۔ نہایت نامناسب امر ہے ۔ ایک صاحب نے کہا عبدالحکیم کہتاہے ۔ جعفر زٹلی جو مرزا صاحب کو سخت گالیاں دیتا رہا ہے اس کو کیا ہوا جو مجھے کچھ ہوگا۔ حضرت نے فرمایا:۔ اس کو پادری عبداللہ آتھم ، لیکھرام ، چراغدین ساکن جموں اور دوسرے مباہلین کے احوال سے عبرت پکڑنی چاہیئے ۔