(بوقت سیر)
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام مع احباب بوقت صبح باہر سیر کو تشریف لے گئے ۔ راستہ میں آریوں کے تعصب اور ان نشانات بینات الٰہی کا ذکر ہوا جو خدا تعالیٰ نے ان کو دکھائے اور پھر بھی اپنی ضد پر اڑے رہے ہیں۔
سلسلہ کے ساتھ مصری لوگوں کی دلچسپی وتوجہ کا ذکر ہوا کہ وہ لوگ حضور کی تصانیف چاہتے ہیں۔ حضرت نے فرمایا کہ :۔
عربی کتابوں کی کثیر تعداد ان کو ارسال کی جاوے۔
حضرت امام بخاریؒ اور وفات مسیحؑ:۔ تھوڑی دور گئے تھے کہ حضرت اقدس کو طبیعت میں ناسازی معلوم ہوئی اور واپس لوٹ آئے ۔ واپس آتے ہوئے کتاب صحیح بخاری کا ذکر ہوا کہ اب بہت سستی ہوگئی ہے۔ ایک زمانہ میں صدہاروپیہ سے نہ ملتی تھی اور آجکل صحیح بخاری مصر کی چھپی ہوئی اڑھائی روپیہ سے مل سکتی ہے۔
حضرت اقدس نے فرمایا:۔
بخاری والے وفات مسیح پر زبردست دلائل پیش کئے ہیں۔ مُتَوَفِّیْکَ کے معنی مُمِیْتُکَ کے لکھے ہیں اور پھر اسی پر بس نہیں کی بلکہ بطور تظاہر آیات وفات مسیح کے لیے آیت فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کو پیش کیا اور وہ حدیث لکھی جس میں نبی علیہ السلام نے اپنے متعلق آیت فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ فرمائی اور اس میں تَوَفَّیْتَنِیْ کے معنے وفات کے ظاہر فرمائے۲؎
۲۸؍ جنوری ۱۹۰۷ئ
(بوقت ظہر)
چند مسائل :۔ حضرت اقدس ظہر کی نماز میں تشریف لائے تو مندرجہ ذیل سوالات خطوط سے حضرت کے حضور میں پیش ہوئے۔
(۱) ایک شخص کا سوال پیش ہوا کہ میری پہلی بیوی کو جلدی اولاد ہو جاتی ہے جس کے باعث وہ کمزور ہوگئی