کی ہے کہ فلاں تاریخ کو زلزلہ آئے گا اوروہ تاریخ قریب ہے ۔ میں نے کہا کہ اس کی طرف ہر گز توجہ نہیں کرنی چاہیئے ۔ اللہ تعالیٰ نے جو اپنا رسول بھیجا ہے ۔ جب تک اس کے ذریعہ سے کوئی خبر نہ ملے ہرگز کوئی دوسری بات قابلِ اعتبار نہیں ۔
حضرت نے فرمایا:۔
یہی طریق ادب ہے ۔ ایسے لوگوں کی باتوں پر جو فقیر بنے پھرتے ہیں ۔ یقین کر لینا ایک الحاد ہے اور ایمان سے خارج ہونا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ سب لوگوں کو ایک ہی حلقے میں لائے اور اسی کے ذریعہ سے تمام خبریں دوسروں کو پہنچاوے تو پھر کسی دوسرے شخص کو درمیان میں لانا اور یقین کرنا کہ اس کو زلزلہ کے دن کی خبر دی گئی ہے یہ ایک شرک کی بنیاد ہے ۔
ہمیں جب زلزلہ کے متعلق الہام ہوا تب ہم خیموں میں گئے ۔ اور اب جب اس کی تاخیر کی خبر دی گئی تو ہم واپس اپنے مکانوں میں آگئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نکتہ نواز ہے ۔ ایسا ہی نکتہ گیر ہے ۔ بعض دفعہ انسان سمجھتا ہے کہ تھوڑی سی بات ہے مگر وہ بات اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب ہو جاتی ہے ۔
ایک نئی تصنیف :فرمایا:
ہم نے ایک نیا رسالہ لکھنا شروع کیاہے جس کا نام ’’ حقیقۃ الوحی‘‘ ہوگا۔ بعض لوگ الہام اور وحی کا دعویٰ کرتے ہیں حالانکہ وہ نہیں جانتے کہ وحی اور الہام کی حقیقت کیا ہے ؟
بمبئی :۔ بمبئی کا ذکر تھا کہ ایک جزیرہ ہے اور سمندر کے پانی کو روک کر اکثر جگہ مکانات بنائے گئے ہیں۔ فرمایا :
مجھے بھی کئی دفعہ خیال آیا ہے کہ جب سخت زلزلہ آئے گا تو اس وقت بمبئی کا کیا حال ہوگا؟
زلزلہ کے بارہ میں
فرمایا:
چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس میں دیر کر دی ہے ۔ اس واسطے مخالفین کی شوخیاں بڑھتی جائیں گی اور وہ گالیاں دینے میں اور بھی تیزی دکھائیں گے ۔