وہ کبھی فوت ہی نہیں ہوگا؟ کیونکہ قیامت کے دن بھی آسمان پر ہی جانے کا ذکر ہوگا۔ مرنے کا تو کوئی ذکر ہی نہیں ۔ اور اگر اس آیت کے یہ معنے لیے جائیں کہ جب میں فوت ہوگیا، یعنی مرگیا۔ لیکن موت قیامت کے دن وارد ہوگی تو اس سے یہ لازم آتا ہے کہ عیسائی آج تک نہیں بگڑے اور ان کا مذہب راستی پر ہے ۔
تسبیح بعد کی ایجاد ہے :۔ ۔
ایک شخص نے ذکر کیا کہ مخالف کہتے ہیں کہ یہ لوگ نمازیں تو پڑھتے ہیں ، لیکن تسبیحیں نہیں رکھتے ۔ فرمایا:۔ صحابہؓ کے درمیاں کہاں تسبیحیں ہوتی تھیں۔ یہ تو ان لوگوں نے بعد میں باتیں بنائی ہیں۔ فرمایا:۔
ایک شخص کا ذکر ہے کہ وہ لمبی تسبیح ہاتھ میں رکھا کرتا تھا اور کوچہ میں سے گذر رہا تھا ۔ راستہ میں ایک بڑھیا نے دیکھا کہ خدا کا نام تسبیح پر گِن رہا ہے ۔ اس نے کہا کہ کیا کوئی دوست کا نام گن کر لیتاہے ۔ اس نے اس جگہ تسبیح پھینک دی ۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بے حساب ہیں ان کو کون گن سکتاہے ۔۱؎
یکم اپریل ۱۹۰۶ئ
وحی الٰہی :۔ وحی الٰہی اَخَّرَہُ اللّٰہُ اِلٰی وَقْتٍ مُّسَمّیً کا ذکر تھا ۔
فرمایا:
اس سے پہلے دن دُعا کے رنگ میں الہام ہوا تھا کہ رَبِّ اَخِّرْ وَقْتَ ھٰذَا دوسرے دن اس دُعا کی قبولیت کے اظہار میں یہ الہام ہوا ۔ خود ہی اللہ تعالیٰ دُعا کراتا ہے اور خود اس کو قبول کرتا ہے ۔
طریق ادب:۔
ڈاکٹر نور محمد صاحب نے ذکر کیا کہ لاہور میں ایک شخص نے جو اپنی جماعت کا ہے مجھ سے ذکر کیا کہ پٹیالہ میں کسی فقیر نے پیشگوئی