حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ
بے شک اس سے پہلے کسی مامور من اللہ کے لیے طی الارض واقع نہیں ہوا۔ اور نہ یہ اسباب ظاہر ہوئے تھے۔ دوسرا جملہ اس حدیث میں سے مولوی صاحب نے یہ پیش کیا ۔ مَنْ مَسَّ ابْنَ مَرْیَمَ یَکُوْنُ لَہٗ اَرْفَعُ قَدْ رًا وَیُعْظَمُ مَسُّہٗ یعنی جو شخص کہ چھوئے گا مسیح موعود کو اس کی قدر خدا تعالیٰ کے نزدیک بہت بلند ہوگی اور اس کا مس کرنا و چھونا اس کے حلقۂ خادمین میں داخل ہونا خدا تعالیٰ کے نزدیک بڑی عظمت رکھتاہے ۔
سبحان اللہ ! حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس حدیث کی خبر بھی نہیں ۔ قریباً اکتیس برس کا الہام مطبوعہ براہین احمدیہ میں درج ہے کہ ’’ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے اس الہام کا مضمون قریباً حدیث مذکورہ سے ملتاہے ۔
۲۴جنوری ۱۹۰۷ئ
رِیاء :۔
حضرت اقدس بوقت صبح مع احباب باہر سیر کو تشریف لے جاتے ہیں۔ آج جب حضرت اقدس باہر تشریف لائے تو پہلے ایک بھائی تو مسلم نے دُعا کے لیے عرض کی ۔ حضرت مولوی نور الدین صاحب نے فرمایا کہ حضور یہ شخص اپنی قوم میں واعظ بھی ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:۔
وعظ و اعمال صالحہ کا فائدہ تب ہی ہوتاہے کہ محض خدا کے لیے ہو۔ اس میں کوئی غرض نہ ہو۔ ریائی عمل کو خدا تعالیٰ قبول نہیں فرماتا ۔ اگر عمل میں کسی اور کو شریک سمجھا جاوے تو خدا کئے ہوئے عمل کو رد کر دیتاہے اور فرماتا ہے کہ جس کے لیے تم نے یہ عمل کیا ہے اس سے اس کا ثواب بھی لو۔
بعدازاں قادیان کے آریوں کے تعصب اور ان کی حق پوشی کا ذکر ہوا کہ یہ لوگ خدا تعالیٰ کے بڑے بڑے نشانات بینات دیکھ کر اُن کو چھپا رہے ہیں۔
اثنائے راہ میں آج کا الہام بیان فرمایا:۔
اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَھْلَ الْبَیْتِ وَیُطَھِّرَ کُمْ تَطْھِیْراً یعنی اللہ تعالیٰ چاہتاہے کہ تم سے اے اہل بیت ! ناپاکی دور کر دے اور تم کو بالکل پاک کر دے پھر پچیس چھبیس برس