اللہ تعالیٰ کے آگے کوئی مشکل بات نہیں ۔ وہ جب چاہے دل پھیردے۔ وہ اگر غور کرے تو اس کے لیے یہی ایک نشان کافی ہے کہ براہین احمدیہ کے ریویو کے زمانہ میں میں اکیلا تھا اور اب یَاْ تُوْنَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ کی پیشگوئی پوری ہورہی ہے ۔ باقی رہے عقائد ۔ سو ان میں تو کوئی اتنا بڑا فرق نہیں۔ صرف سمجھ کا پھیر ہے۔ پہلے لیجئے وفت مسیح کو ۔ سو اس مسئلہ میں خود اُن کے اپنے علماء کے مختلف اقوال ہیں۔ پس ہمیں ایک قول کو ترجیح دینے سے یہ کیونکر بُرا کہہ سکتے ہیں۔ تَوَفَّیْتَنِیْ کے معنوں میں جھگڑا ہے۔ مگر میرے نزدیک تو جو معنے کریں ہمارا مطلب حاصل ہے۔ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کے اگر یہ معنے ہوں کہ جب تو نے مجھے اُٹھالیا تو پھر توہی ان کا نگران حال تھا۔ اس صورت میں بھی یہ ظاہر ہے کہ آپ دوبارہ دُنیا میں تشریف نہیں لائے ۔ ورنہ یہ حصرنہ کرتے ۔ پھر معراج کو لو۔ ہمارا یہ مذہب ہرگز نہیں کہ وہ ایک خواب تھا یا صرف روح گئی بلکہ ہم تو کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عین بیداری میں معراج ہوا اور ایک لطیف جسم بھی ساتھ تھا۔ مگر یہ باطنی امور ہیں۔ خشک ملاں اسے کیا سمجھیں؟
پھر مکالمۂ الٰہی کا دعویٰ ہے ۔ یہ بھی کوئی نئی بات نہیں۔ سنت اللہ سے بھی یہ بات ثابت ہے اور انسان کے دل کی تڑپ بھی یہی چاہتی ہے ۔ فتوح الغیب میں بھی ایسا ہی لکھا ہے اور اشاعت السنتہ میں بھی چھپا تھا ۔ وَلَھُمْ مُکَالِمَاتٌ مجدد صاحب نے بھی یہی لکھا ہے اور ولی ونبی میں قلت و کثرت مکالمات کا فرق بتایا ہے یہ نبی کا لفظ صرف انہی معنوں میں ہے اور اپنی اپنی اصطلاح ہے ورنہ خاتم النبیین کے بعد کوئی نہیں۔ عوام الناس کو بد ظن کرنے کے لیے ہم پر طرح طرح کے الزام لگائے جاتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں ملائکہ کے منکر ہیں کبھی کچھ حالانکہ ہم ملائک پر ، خدا کی کتابوںپر ، احادیثِ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ، بہشت ، دوزخ، عذابِ قبر، تقدیر ، حشر اجسادسب پر صدق دل سے ایمان لاتے ہیں۔ ہم ایسے امور کی تفاصیل خدا کے حوالے کرتے ہیں کیونکہ محتاط مذہب یہی ہے کہ انسان مجمل پر ایمان لاوے اور تفاصیل کو حوالہ بخدا کردے۔باقی رہا شریعت کا عملی حصہ ، سو ہمارے نزدیک سب سے اول قرآن مجید ہے ۔ پھر احادیث صحیحہ جن کی سُنت تائید کرتی ہے۔ اگر کوئی مسئلہ ان دونو میں نہ ملے تو پھر میرا مذہب تو یہی ہے کہ حنفی مذہب پر عمل کیا جاوے کیونکہ ان کی کثرت اس بات کی دلیل ہے کہ خدا تعالیٰ کی مرضی یہی ہے۔ مگر ہم کثرت کو قرآن مجید و احادیث کے مقابلہ میں ہیچ سمجھتے ہیں۔ ان کے بعض مسائل ایسے ہیں کہ قیاس صحیح کے بھی خلاف ہیں۔ ایسی حالت میں احمدی علماء کا اجتہاد اولیٰ بالعمل ہے دیکھو مفقود الخبر کے لیے نوے برس یا کم و بیش میعاد رکھی ہے ۔ یہ ہی نہیں کہہ دیا کہ وہ نکاح نہ کرے ۔ یہ واہیات ہے ۔
حکیم الامت نے عرض کیا کہ حضور شاہ صاحب علیہ الرحمۃ نے لکھا ہے کہ جس ملک میں جس مذہب کی کتابیں بسہولت میسر آئیں اس پر عمل ہونا چاہیئے ۔