کیسے ہوسکے گی۲؎یہ غلطی ہے ۔ بعض وقت انسان خطائوں کے ساتھ ہی ان پر غالب آسکتا ہے۔ اس لیے کہ اصل فطرت میں پاکیزگی ہے۔ دیکھو پانی خواہ کیسا ہی گرم ہو لیکن جب وہ آگ پر ڈالا جاتا ہے تو وہ بہرحال آگ کو بجھا دیتا ہے اس لیے کہ فطرتاً برودت اس میں ہے۔ ٹھیک اسی طرح پر انسان کی فطرت میں پاکیزگی ہے۔ ہر ایک میں یہ مادہ موجود ہے وہ پاکیزگی کہیں نہیں گئی۔ اسی طرح تمہاری طبیعتوں میں خواہ کیسے ہی جذبات ہوں‘ رو کر دعا کرو گے تو اللہ تعالیٰ دور کردے گا۔ اس کے بعد آپ نے نہایت درد سے ایک لمبی دعا کی۳؎ ۴؎جنوری ۱۹۰۷ئ؁ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی معجزات:۔ فرمایا:۔ حضرت عیسیٰ کے معجزے توایسے ہیں کہ اس زمانے میں وہ بالکل معمولی سمجھے جاسکتے ہیں اَکْمَہ سے مراد شب کور ہے۔ اب ایسا بیمار معمولی کلیجی سے بھی اچھا ہوسکتا ہے احیاء موتی سے مراد بھی خطر ناک مریضوں کا تندرست ہونا ہے۔ پس آنحضرت ﷺ کے مقابلے میں یہ باتیں کچھ بھی نہیں۵؎ ۱۵؍جنوری ۱۹۰۷ئ؁ :۔ دعویٰ اور مذہب:۔ فرمایا کہ :۔ طاعون کی موت بالخزی موت ہے ۔ نمونیہ جس سے چند گھنٹوں میں فیصلہ ہوجائے طاعون نہیں تو اور کیا ہے؟ مولوی محمد حسین کا ذکر آیا کہ وہ رجوع کیونکر کرے گا ۔فرمایا:۔