خدا سے آتی ہے۱؎۔ اس کے سوا جھوٹی عزتوں کا کیا ہے۔ نبیوں سے بڑھ کر عزت کسی کی نہیں۔
مگر دیکھو انہیں کیسے کیسے دکھ دئیے گئے۔ نماز میں ان پر گندے گوبر ڈالے گئے۔ قتل کے ارادے کئے گئے اور آخر مکہ سے نکالا گیا لیکن خدا تعالیٰ کے حضور آپ کی وہ عزت اور عظمت ہے کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ۔ (اٰل عمران :۳۲) رسول ﷺ کی اطاعت کو خدا تعالیٰ کی محبت کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے ۔ بغیر اس کے یہ مقام مل ہی نہیں سکتا۔
اب بتائو کہ کیا یہ اطاعت کا کام ہے کہ دشمن کا ایسا دشمن بنے کہ جب تک اسے پیس نہ لے اور تکلیف اور دکھ نہ پہنچالے صبر ہی نہ کرے۔ یہ میں جانتا ہوں کہ انسانی فطرت میں یہ بات ہے کہ گالی سے مشتعل ہوجاتا ہے مگر اس سے ترقی کرنی چاہیئے ۔ جو دکھ دیتے ہیں انہیں سمجھو کہ وہ کچھ چیز نہیں ۲؎ ۔ اگر تم پر خدا راضی ہے۔ لیکن اگر خدا تعالیٰ ناراض ہے تو خواہ ساری دنیا تم سے خوش ہو وہ بے فائدہ ہے۔
یہ بھی یادرکھو کہ اگر تم مداہنہ سے دوسری قوموں کو ملو تو کامیاب نہیں ہوسکتے ۔خدا ہی ہے جو کامیاب کرتا ہے اگر وہ راضی ہے تو ساری دنیا ناراض ہو تو پروانہ کرو۔ ہرایک جو اس وقت
سنتا ہے یادرکھے کہ تمہارا ہتھیار دعا ہے اس لیے چاہیئے کہ دعا میں لگے رہو۔
یہ یادرکھو کہ معصیت اور فسق کو نہ واعظ دور کرسکتے ہیں اور نہ کوئی اور حیلہ ۔ اس کے لیے ایک ہی راہ ہے اور وہ دعا ہے ۔ خدا تعالیٰ نے یہی ہمیں فرمایا ہے ۔ اس زمانہ میں نیکی کی طرف خیال آنا اور بدی کو چھوڑنا چھوٹی سی بات نہیں ہے۔ یہ انقلاب چاہتی ہے اور یہ انقلاب خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور یہ دعائوں سے ہوگا۔
ہماری جماعت کو چاہیئے کہ راتوں کو رو رو کر دعائیں کریں۔ اس کا وعدہ ہے اُدْعُوْنِیْ ٓ اَسْتَجِبْ لَکُمْ (المومن :۶۱) عام لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ دعا سے مراد دنیا کی دعا ہے۔ وہ دنیا کے کیڑے ہیں۔ اس لیے اس سے پرے نہیں جاسکتے۔ اصل دعا دین ہی کی دعا ہے۱؎ لیکن یہ مت سمجھو کہ ہم گنہگار ہیں یہ دعا کیا ہوگی اور ہماری تبدیلی