اسی قدر تم سے خوش ہوگا۔ اپنے دشمنوں کو تم خدا تعالیٰ کے حوالے کرو۔ قیامت نزدیک ہے۔ تمہیں ان تکلیفوں سے جو دشمن تمہیں دیتے ہیں گھبرانا نہیں چاہیئے ۔ میں دیکھتا ہوں کہ ابھی تم کوان سے بہت دکھ اٹھاناپڑے گا کیوں کہ جو لوگ دائرہ تہذیب سے باہر ہوجاتے ہیں۔ ان کی زبان ایسی چلتی ہے جیسے کوئی پل ٹوٹ جاوے تو ایک سیلاب پھوٹ نکلتاہے ۔ پس دیندار کو چاہیئے کہ اپنی زبان کو سنبھال کر رکھے۔ یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جب انسان کسی کا مقابلہ کرتا ہے تو اسے کچھ نہ کچھ کہنا ہی پڑتا ہے جیسے مقدمات میں ہوتا ہے۔ اس لیے آرام اسی میں ہے کہ تم ایسے لوگوں کا مقابلہ ہی نہ کرو۔ سد باب کا طریق رکھو اور کسی سے جھگڑا مت کرو۔ زبان بند رکھو۔ گالیاں دینے والے کے پاس سے چپکے سے گذر جائو گویا سنا ہی نہیں اور ان لوگوں کی راہ اختیار کرو جن کے لیے قرآن شریف نے فرمایا ہے وَاِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا کِرَاماً ۔ اگر یہ باتیں اختیار کر لو گے تو یقینا یقینا اللہ تعالیٰ کے سچے مخلص بن جائو گے ۔اللہ تعالیٰ کو کسی رپورٹ کی حاجت نہیں۔ وہ خود دیکھتا ہے اور سنتا ہے اگر تم تین ہو تو چوتھا خدا ہوتا ہے۔ اس لیے خدا کو اپنا نمونہ دکھائو۔ اگر تمہارے نفسانی جوش اور بدزبانیاں ایسی ہیں جیسے تمہارے دشمنوں کی ہیں پھر تم ہی بتائو کہ تم میں اور تمہارے غیروں میں کیا فرق اور امتیاز ہوا؟ تمہیں تو چاہیئے کہ ایسا نمونہ دکھائو کہ جو مخالف خود شرمندہ ہوجاوے ۔بڑا ہی عقلمند اور حکیم وہ ہے جو نیکی سے دشمن کوشرمندہ کرتا ہے۔ ہمیں اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے کہ نرمی اور رفق سے معاملہ کرو۔ اپنی ساری مصیبتیں اور بلائیں خدا تعالیٰ پر چھوڑ دو۔ یقینا سمجھو اگر کوئی شخص ایسا ہے کہ ہر شخص کی شرارت پر صبر کرتا ہے اور خدا پر اسے چھوڑتا ہے ۔ تو خدا تعالیٰ اسے ضائع نہیں کرے گا۔اگرچہ دنیامیں ایسے آدمی موجود ہیں جو ہنسی کریں گے اور ان باتوں کو سن کر ٹھٹھا کریں گے مگر تم اس کی پروا نہ کرو۔ خدا تعالیٰ خود اس کے لیے موجود ہے۔ وہ خدا پرانا نہیں ہوگیا جیسے انسان بڈھا ہو کر پیر فرتوت ہوجاتا ہے ۔ خدا تعالیٰ وہی ہے جو موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کے وقت تھا اور وہی خدا ہے جو آنحضرت ﷺ کے وقت تھا۔ اس کی وہی طاقتیں اب بھی ہیں جو پہلے تھیں۔ لیکن جو کچھ میں کہتا ہوں تم اس پر عمل نہ کرو تو میری جماعت میں نہ رہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے مصالح کو خوب جانتا ہے۔ لوگ مجھے کہتے ہیں کہ فلاں شخص نے ہمیں مارا اور مسجد سے نکال دیا۔ میں یہی جواب دیتا ہوں کہ اگر تم جواب دو تو میری جماعت میں سے نہیں۔تم کیا چیز ہو۔ صحابہؓ کی حالت کہ ان کے کسقدر خون گرائے گئے۔ پس تمہارے لیے اسوہ حسنہ صحابہ رضی اللہ عنہم کا ہے۔ دیکھووہ کیسے دنیا سے باہر ہوگئے تھے۔ انسان میں جس قدر جوش ہوتے ہیں وہ دنیا کے لیے ہی ہوتے ہیں۔ کسی ہنگامہ کی خبر‘دنیا کا مال‘عزت یا اولاد