سے پہلے وہ شرمندہ ہوئے۔ ماسواس کے ایک اوربات میں پیش کرتا ہوں جو بہت ہی صاف اور بدیہی بات ہے۔ براہین احمدیہ کے زمانہ میں جس کوبتیس سال کے قریب گذرے۔ کیوں کہ کتاب تالیف پہلے ہوتی ہے اور پھر طبع ہوتی ہے۔ اس کو شائع ہوئے بھی چھبیس سال گذرے ۔اوروہ تالیف اس سے بہت پہلے ہوئی۔ اس میں اس قدر پیشگوئیاں ہیں کہ میں اس وقت ان سب کو بیان نہیں کرسکتا۔ نمونہ کے طور پر میں ایک کو بیان کرتا ہوں۔ ایک زبردست نشان جو ہر روز پورا ہوتا ہے :۔ اس کتاب براہین احمدیہ میں اللہ تعالیٰ مجھے ایک دعا سکھاتا ہے یعنی بطور الہام فرماتا ہے:۔ رَبِّ لاَ تَذَرْنِیْ فَرْدًا وَّاَتْتَ خَیْرُالْوَارِثِیْنَ یعنی مجھے اکیلا مت چھوڑ اور ایک جماعت بنادے۔ پھر دوسری جگہ وعدہ دیتا ہے:۔ یَاْتِیْکَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ ہر طرف سے تیرے لئے وہ زر اور سامان جو مہمانوں کے لیے ضروری ہیں اللہ تعالیٰ خود مہیا کرے گا اوروہ ہرایک راہ سے تیرے پاس آئیں گے۔ اور پھر فرمایا:۔ یَاْتُوْنَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ۔ لَا تُصَعِّرْ لِخَلْقِ اللہِ وَلَاتَسْئَمْ مِّنَ النَّاسِ ہرایک طرف اور ہرایک راہ سے تیرے پاس مہمان آئیں گے اور اس قدر کثرت سے آئیں گے کہ قریب ہے تو ان سے تھک جاوے یا بدخلقی کرے۔ اس لیے پہلے سے بتادیا کہ نہ تو اُن سے تھکے اور نہ اُن سے بدخلقی کرے ۔ یہ پیشگوئیاں اس براہین احمدیہ میں موجود ہیں۔ جن کو شائع ہوئے چھبیس سال کا عرصہ گذرتا ہے اور جس کی تالیف پر بتیس سال گذرتے ہیں ۔ یہ وہ کتاب ہے جو مخالفوں کے پاس بھی موجود ہے اور گورنمنٹ میں بھی بھیجی گئی اور مکہ مدینہ اور بخارا میں بھی اس کے نسخے پہنچے ۔ اب تو اس میں یہ الہامات درج نہیں کر دیئے گئے۔ اب غور کرو کہ جس زمانہ میں یہ پیشگوئی شائع ہوئی یا لوگوں کو بتائی گئی اس وقت کوئی شخص یہاں آتا تھا؟ میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ کوئی مجھے جانتا بھی نہ تھا۔ اور کبھی سال بھر میں بھی ایک خط یا مہمان نہ آتا تھا۔ میں باکل ایک گمنامی کی حالت میں پڑا ہواتھا۔ یہ ہندو جو یہاں رہتے ہیں اور اب گالیاں دیتے ہیں اور ہر قسم کی مخالفت کرتے اور خباثت دکھاتے ہیں۔ ان کو قسم دو اور یاوہ بغیر قسم ہی بتائیں کہ کیا ان لوگوں میں سے کوئی ہمارے پاس تھا؟ یہ سب سے پہلے گواہ ہیں اور انہوں نے خدا تعالیٰ کے ان نشانات کو دیکھا ہے اور اب وہ چھپاتے ہیں اس طرح پر گویا سب سے پہلے جہنم کے لئے تیار ہیں۔