آریہ سماج والے ملا وامل اور شرمپت رائے یہاں موجود ہیں۔ یہ میرے ساتھ عموماً آیا جاتا کرتے تھے ۔ میرے ساتھ براہین احمدیہ چھپوایاکرتے اور اس کے پروف بھی انہوں نے دیکھے ہیں اور جب ہم امرتسر جاتے تھے تو کسی کو معلوم بھی نہ ہوتا تھا کہ کہاں گئے اور وہاں جاکر کوئی نہیں جانتا تھا کہ کہاں رہے ۔ اب اگر وہ ایمان رکھتے ہیں اور دھرم رکھتے ہیں تو وہ جواب دیں۔
میں سچ کہتا ہوں کہ انہوںنے خدا تعالیٰ کے بہت سے نشانات دیکھے ہیں اور وہ گواہ ہیں لیکن قوم اور برادری کے ڈرسے خاموش ہیں۔ وہ کیوں اس شہادت کو ظاہر نہیں کرتے ؟ یہ سچائی کا خُون کرنا ہے وہ عنقریب جا ن لیں گے کہ ان کا انجام کیاہے۔ وہ قسم کھا کر بتائیں کہ کیا یہ رجوع لوگوں کا تھا؟ کیا اسی طرح فتوحات آتی تھیں؟ اسی طرح پر خطوط آتے تھے ؟ تم نے یہ عبارتیں پڑھی تھیں۔ اگر یہ سچ ہے اور تمہارے سامنے قبل از وقت ایسی حالت میں کہ کوئی مجھے جانتا بھی نہ تھا، خدا تعالیٰ سے وحی پاکر میں نے خبر دی تھی اور وہ پوری ہوئی تو پھر بتائو کہ کیا یہ انسان کا اپنا کلام ہے کہ اس طرح پر قبل از وقت خبر دے اور ایک زمانہ دراز کے بعد وہ پوری ہو جاوے؟ ایک آدمی جو گمنامی کی حالت میں ہے اس کو اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ تیرے لیے ایک زمانہ آتاہے کہ تو عالم میں مشہور ہو جائیگا۔ فَحَانَ اَنْ تُعَانَ وَتُعْرَفَ بَیْنَ النَّاسِ ایک زمانہ آئے گا کہ تیری مدد کی جائے گی اور تو لوگوں میں شناخت کیا جائے گا۔ کیا یہ انسانی کام اور منصوبہ ہو سکتا ہے ؟ ہر گز نہیں ۔یہ اللہ تعالیٰ ہی کا کام ہے کہ پہلے ایک واقعہ کی خبر دیتاہے کیونکہ علم غیب اسی کو ہے اور یہ اسی کا خاصہ ہے اور وہ اپنے مرسلین پر ایسے ظاہر کرتاہے ۔ جب یہ بات ہے تو پھر سوچو کہ مر کر خدا تعالیٰ کے سامنے جانا ہے۔ اس کا کیا جواب ہے؟ کیا باوجود یکہ تم نے اپنی آنکھوں سے ان نشانات کو دیکھا اور تم اُن کے گواہ ٹھہرے اور سُنے سُنائے گواہ نہیں بلکہ روئیت کے گواہ اوروہ بھی ایسے کہ دُنیا بھر میں جواب نہ دے سکیں۔ یاد رکھو کہ خد اتعالیٰ کی حجت تم پر قائم ہے ۔ میں حلفاً کہتاہوں سب سے زیادہ حجت تم پر قائم ہے۔ اگرچہ ساری دُنیا پر حجت ہے مگر تم پر سب سے زیادہ ہے ۔ میرا وجود اس وقت نہ ہونے کے برابر تھا۔ ایک محض وجود تھا۔ پھر جب کہ خد ا تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا اور جس کا تمہیں علم دے دیا گیا تھا اسی طرح پورا ہونا آسان بات نہیں ہے۔ دیکھو یہ کیسا بزرگ نشان ہے ، ایسا نشان ہے جو ہرروز تازہ بتازہ پورا ہو رہاہے۔
یہ یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم پر عذاب نازل نہیں کرتا ۔ وہ رحیم و کریم خدا ہے لیکن جب انسان شوخی کرتا ہے تواُسے ڈرناچاہیئے ۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ اسی قادیان میں طاعون نہیں ہوا تھا تو میں نے شائع کر دیا تھا۔ اِنِّیْ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ہندوئوں کے تو گھر خالی ہو جاویں اور میرے گھر کا چوہا بھی نہ مرے ۔ میں پھر کھول کر کہتاہوں کہ یہ اور اس قسم کے بہت سے نشانات یہاں کے ہندوئوں نے دیکھے ہیں جو اگرچہ سب دُنیا پر حجت ہیں لیکن ان پر سب سے زیادہ حجت ہے۔ وہ مجھے اور میری جماعت کو طرح طرح