محبوب کے نشانات کو پامال کردیا جاوے مگر انہوںنے آنحضرت ﷺ کے ان معجزات اور نشانات کو جو اس زمانہ میں ظاہر ہوئے پامال کرنے کی کوشش کی ہے۔ جو نشانات اور معجزات آپ کے وقت میں ظاہر ہوئے وہ اس زمانہ کے لوگوں تک محدود تھے اور اس زمانہ کے لیے وہ ’’شنیدہ کے بود مانند دیدہ ‘‘ کے مصداق تھے۔ لیکن چونکہ آپ کا دامن نبوت بہت وسیع ہے اور اس زمانہ کے لیے بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے یہ معجزات رکھے تھے اور وہ ظاہر ہوئے لیکن میری مخالفت اور عداوت کی وجہ سے انہوں نے بخل سے مٹانا چاہا ہے۔ ایک طرف تو آپ کی محبت اور آپ کی اتباع کا دعویٰ ہے۔ دوسری طرف جب نشان ظاہر ہوتا ہے تو انکار کر دیتے ہیں۔ یہ تو وہ نشانات تھے جو اس زمانہ کے لیے آنحضرت ﷺ سے وحی پاکر بیان کئے تھے مگر اس کے سوا نشانات کے ایک اور بھی نیا سلسلہ ہے۔ یہ وہ نشانات ہیں جو خدا تعالیٰ نے میرے ہاتھ پر ظاہر کئے جن کی قبل از وقت خبر دی گئی ۔ ان کی تعداد بہت بڑی ہے۔ منجملہ ان کے ایک زلزلہ کی پیشگوئی ہے جو اگرچہ قرآن شریف میں بھی اس کی خبر دی گئی تھی لیکن خدا تعالیٰ نے مجھے بھی اسکا علم دیا جیسا کہ براہین احمدیہ اور دوسری کتابوں میں میں نے درج کردیا۔ اور پھر جن دنوں میں گورداسپور میں تھا’’زلزلہ کا دھکا‘‘الہام ہوا تھاجوانہیں ایام میں اخبارات میں شائع کردیا گیا اور پھر عَفَتِ الدِّیَارُ مَحَلُّھَا وَمُقَامُھَا بھی الہام ہوا تھا اور یہ پیشگوئی ۴؍اپریل گذشتہ کو پوری ہوگئی اور پھر اسی کے ضمن میں اور زلزلوں کی پیشگوئیاں تھیں جو آتے رہے۔ منجملہ ان کے ایک بھاری زلزلہ کی پیشگوئی تھی۔’’پھر بہار آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی۔‘‘چنانچہ وہ بھاری زلزلہ بھی آگیا۔ مگر افسوس تو یہ ہے کہ محض میری عداوت کی وجہ سے قرآن شریف کی پیشگوئی کا بھی انکار کردیا۔ یہ ان کی ایمانی حالت ہے جو کچھ میرے تصدیق دعویٰ میں ظاہر ہو خواہ وہ قرآن مجید میں بھی موجود ہو یہ اس سے ضرور انکار کردیتے ہیں۔ مگر خدا تعالیٰ کی قدرت ہے کہ نشان پر نشان ظاہر ہو رہے ہیں۔ یہ لوگ کہاں تک خدا تعالیٰ کی قدرتوں کا مقابلہ کریں گے اور میرے ساتھ کشتی لڑیں گے۔ جو لوگ حقیقۃ الوحی کو جب وہ شائع ہوگی پڑھیں گے تو انہیں معلوم ہوجائے گا کہ کس قدر نشانات کا سلسلہ ہے ۔ میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر بیان کرتا ہوں کہ ایک لاکھ سے بھی زیادہ نشان ظاہر ہوچکے ہیں۔ اب غور کرو کہ اگر کوئی شخص خدا تعالیٰ کی طرف سے نہ ہو تو کیا اس کی اس قدر نصرت اور تائید ہواکرتی ہے؟ پھر جب کہ اسے یہ بھی کہا جائے کہ وہ خدا کا دشمن ہے اور خدا اس کا دشمن ہے۔ جس قدر مقدمات مجھ پر کئے گئے یا کرائے گئے ان میں میرے ہی مخالفوں کو ناکامی اورنامرادی ہوئی اور خدا تعالیٰ نے مجھے ہی بامراد کیا۔ آتما رام کے سامنے یہ ناکام ہوئے۔ جہلم میں انہیں نامرادی ہوئی اور اس