تھی کہ تا دو مرتبہ حجت پوری ہوجاوے اور اس ملک میں اس لیے کہ چوںکہ وہ ملک عیسائی مذہب کی اشاعت کرتے ہیں۔ ان پر بھی اتمام حجت ہو۔ اب بتائو کہ علاوہ اور بے شمار نشانات کے یہ زبردست نشان ظاہر ہوا۔اوراس کو پورا ہوئے بھی دس گیارہ سال گذر گئے۔ اگر حقیقی مدعی موجود نہ تھا تو پھر یہ نشان کس لیے ظاہر ہوا؟ نشان پورا ہو چکا مگر تم ابھی تک حقیقی دعویدار کو دجال اور واجب التقل کہے جاتے ہو۔ میرے ایک دوست نے بیان کیا کہ جب یہ نشان پورا ہوا تو ایک مولوی غلام مرتضیٰ نام نے خسوف قمر کے وقت اپنی رانوں پر ہاتھ مار مار کر (جیسے کوئی سیاپا کرتا ہے۔ ایڈیٹر ) کہا کہ اب دنیا گمراہ ہوگی۔ خیال تو کرو کیا وہ خدا تعالیٰ سے بڑھ کر دنیا کا خیرخواہ تھا‘اس نے کیسی غلطی کھائی۔ اگر انصاف اور خدا ترسی ہوتی تو میرے معاملہ میں اس کے بعد خاموش ہوجاتے۔ مگر نہیں اور بھی دلیر ہوئے۔ یہ کسوف خسوف کا نشان حدیث ہی میں بیان نہیں ہوا۔ بلکہ قرآن مجید نے بھی اس کو بیان کیا ہے۔ پھر قرآن شریف میں ایک اور نشان بتایا گیا تھا کہ اس زمانہ میں طاعون کثرت سے پھیلے گی۔ احادیث میں بھی یہ پیشگوئی تھی۔ قرآن مجید میں لکھا تھا۔ اِنْ مِّنْ قَرْیَۃٍ اِلَّا نَحْنُ مُھْلِکُوْ ھَا قَبْلَ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ اَوْ مُعَذِّبُوْھَا (بنی اسرائیل :۵۹) اور دوسری جگہ صاف طورپر بتایا گیا تھا کہ وہ ایک زمینی کیڑا ہوگا (دابتہ الارض ) آخری زمانہ میں بہت سے لوگ اس سے مریں گے ۔ اب کوئی بتائے کہ کیا اس نشان کے پورا ہونے میں کوئی شک وشبہ باقی رہ گیا ہے؟ پھر اس آخری زمانے کے نشانات میں بتایا گیا تھا کہ نہریں نکالی جاویں گی اور نئی آبادیاں ہوں گی۔ پہاڑ چیرے جاویں گے۔ کتابوں اور اخباروں کی اشاعت ہوگی ۔ اور یہ بھی لکھا تھا وَاِذَالْعِشَارُ عُطِّلَتْ (التکویر:۵) یعنی ایک ایسی نئی سواری نکلے گی جس کی وجہ سے اونٹیناں بے کار ہوجائیں گی اور ایسا ہی حدیث میں بھی فرمایا گیا تھا لَیُتْرَکَنَّ القِلَاصُ فَلَا یُسْعٰی عَلَیْھَا ۔ اب دیکھ لو کہ ریل کے اجراء سے یہ پیشگوئی کیسی صاف صاف پوری ہوگئی ۔ اور عنقریب جب مکہ تک ریل آئے گی تو اور بھی اس کا نظارہ قابل دید ہوگا۔ جب وہاں کے اونٹ بے کار ہوجائیں گے۔ مگرمیں افسوس سے ظاہر کرتا ہوں کہ انہوںنے محض میرے ساتھ بخل کی وجہ سے آنحضرت ﷺکی ذات پاک پر بھی حملہ کیا اور آپ کی پیشگوئیوں کی تکذیب کی ۔ وہ امر جس سے آنحضرت ﷺ کی حقانیت ثابت ہوتی تھی۔ میری عداوت کی وجہ سے اسے مٹانا چاہا ہے۔ مجھ سے عداوت ہی سہی لیکن آپؐ کی پیشگوئی کو کیوں پامال کردیا؟ میں سچ کہتا ہوں کہ طاعون اور ریل کے اجراء وغیرہ کی پیشگوئیوں کا محض اس وجہ سے انہوں نے انکار کیا کہ ان سے میری سچائی ثابت ہوتی تھی جس سے معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ انہیں کوئی تعلق محبت کا باقی نہیں کیوں کہ یہ کبھی نہیں ہوا کہ دشمن کو آزار پہنچانے کے لئے