عقل کا آدمی بھی کہہ اُٹھے گا کہ یہ زمانہ بالطبع تقاضا کرتاہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے مدد آوے۔ ان لوگوں کا تو ہم منہ بند نہیں کر سکتے جو کہیں کہ اسلام اور مسلمانوں کا کچھ نہیں بگڑا۔ ایسے لوگوں کے نزدیک تو اگر سب کے سب دہریہ ہو جائیں تب بھی کچھ نہیں بگڑے گا۔ لیکن سچی بات یہی ہے کہ اس وقت اسلام خد ا کی مدد کا سخت محتاج ہے۔ خد ا تعالیٰ نے مجھے اس صدی کا مجدد کرکے بھیجاہے:۔ اور یہ کیسی خوشی کی بات ہے کہ خد اتعالیٰ نے ایسے وقت میں اسلام کو بے مدد نہیں چھوڑا۔ اس نے اپنے قانون کے موافق مجھے بھیجا ہے تا میں اسے زندہ کروں مگر تعجب اور افسوس کا مقام ہے کہ باوجود یکہ زمانہ کی حالت مجدد کی داعی تھی اور مولویوں سے پوچھو وہ اقرار کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ ہر صدی پر ایک مجدد آئے گا۔ لیکن جب اُن سے پوچھا جاوے کہ اب بتائو اس صدی کا مجدد کون ہے؟ تو جواب نہیں دیتے ۔ حالانکہ چوبیس سال صدی میں سے گذر گئے اورجب میں پیش کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اس صدی کا مجدد کرکے بھیجا ہے تو انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں دجال آیا۔ اور ابھی کہتے ہیں کہ ایک نہیں تیس دجال آنے والے ہیں۔ افسوس باوجود اس سرگردانی کے کیا تمہارے حصہ میں دجال ہی آیا ہے ۔کیا کہیں یہ بھی لکھا ہے کہ پہلے مجدد آئیں گے مگر چودھویں صدی پر جو سب سے زیادہ فتنوں کی صدی ہے دجال آئے گا ۱؎۔موجودہ حالت تو کھول کھول کر پکار رہی ہے کہ اصلاح کی ضرورت ہے مگر یہ ابھی اور فساد چاہتے ہیں۔ یہ پکی بات ہے کہ جب زمین پر معصیت اور پاپ پھیل جاتاہے تو اللہ تعالیٰ اصلاح کے لئے کسی کو بھیجتاہے اور اب وہ حالت ہو چکی تھی اس لیے اب بھی اسی نے یہ سلسلہ قائم کیاہے۔ حالت ِ زمانہ کے بعد وہ نشانات ہیں جو اس سلسلہ کی سچائی کے لیے ظاہر ہوئے اوران نشانات سے وہ نشانات مراد ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرار دیے تھے۔ اور قبل از وقت بتادیئے تھے۔ منجملہ ان کے ایک کسوف خسوف کا نشان ہے ۔ مولوی جب تک یہ نشان پورا نہیں ہوا تھا ، روروکر اس حدیث کو پڑھا کرتے تھے۔ مولوی محمد لکھو کے والے نے اپنی کتاب احوال الآخرت میں اس نشان کو بڑے زور شور سے بیان کیا ہے کہ مہدی کے زمانہ میں رمضان کے مہینے میں کسوف اور خسوف ہوگا۔ دارقطنی کھول کر دیکھ لو کہ کیا یہ حدیث اس میں موجود ہے یا نہیں ؟ لیکن جب یہ نشان پورا ہوا ور نہ ایک دفعہ بلکہ دو مرتبہ ۔ ایک مرتبہ اس ملک میں ہوا۔ دوسری مرتبہ امریکہ میں ہوا۔ اس میں حکمت یہ