سوا اور کوئی مذہب یہ خوبی نہیں رکھتا۔ اگر اس میں سے یہ خوبی نکال دی جاوے تو یہ بھی مردہ ہو جاتا۔ مگر نہیں وہ زندہ مذہب ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ہر زمانہ میں اس کی زندگی کا ثبوت دیا ہے چنانچہ اس زمانہ میں بھی اس نے اپنے فضل سے اس سلسلہ کو اسی لیے قائم کیا ہے تا وہ اسلام کے زندہ مذہب ہونے پر گواہ ہو اور تاخدا کی معرفت بڑھے اور اس پر ایسا یقین پیدا ہو جو گناہ اور گندگی کو بھسم کر جاتاہے اور نیکی اور پاکیزگی پھیلاتا ہے۔ موجودہ زمانہ کی حالت :۔ یہ زمانہ سخت ابتلاء کا زمانہ ہے ۔ ہر قسم کے جرائم کا مجموعہ ہے۔ ہر قسم کی ضلات پورے جوش میں ہے ۔ وہ لوگ جو مسلمان کہلاتے ہیں ہر قسم کے عیب اور معاصی ان میں پائے جاتے ہیں۔ زانی ، شرابی ، قمارباز، بددیانت اور خائن ہیں۔ قرضہ دیا جاوے تو دیتے نہیں عہد کرتے ہیں تو توڑتے ہیں۔ دوسروں کے حقوق کو پامال کرنے اور ظلم کرنے میں دلیر ہیں۔ یتیموں کا مال کھا جاتے ہیں۔ غرض وہ کون سا عیب اور جرم ہے جو نہیں کرتے ۔ میں یقینا کہتاہوں کہ ان کی وہی حالت ہو رہی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت قریش کی تھی۔ پھر اس قسم کے فسق و فجور کے ساتھ ایک اور خطرناک ابتلا دوسرے مذاہب کا ہے۔ وہ ہر قسم کے لالچ دے کر مرتد کر لیتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کئی لاکھ مسلمان عیسائی ہو چکے ہیں۔ اب اندرونی طور پر تو مسلمانوں کی وہ حالت ہے جو میں نے ابھی بیان کی ہے اور بیرونی حالت وہ ہے جو عیسائی اور آریہ اور دوسرے مذاہب اسلام سے گمراہ کرنے کے لئے اپنی تدبیروں کو کام میں لا رہے اور اس طرح پر نہ اندرونی حالت کو دیکھ کر آرام آتا ہے اور نہ بیرونی حالت کو دیکھ کر کوئی راحت ہو سکتی ہے۔ پھر جبکہ اس حدتک اسلام کی حالت ہوگئی ہے تو کیا خد ا تعالیٰ کا یہ وعدہ کہ اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّالَہٗ لَحَافِظُوْنَ ( الحجر: ۱۰)بالکل غلط ہوگیا؟ کیا حق نہ تھا کہ اس وقت اس کی حفاظت کی جاتی ؟میں سچ سچ کہتا ہوں کہ یہ قوم پورا پورا صدمہ خریف کا اُٹھاچکی ہے اب ضروری ہے کہ اسے ربیع کا حصہ ملے اور اسلام کے پاک درخت کے پھل پھول نکلیں سکھوں کے عہد میں اسلام کو جو صدمہ پہنچا ہے وہ بہت ہی ناگوار ہے ۔ مساجد گرادی گئیں۔ وحشیانہ حالت ایسی تھی کہ بانگ اور نماز تک سے روکا جاتا اور شاید ہی کوئی مسلمان ایسا ہو جسے قرآن آتاہو۔ اپنی حالت بھی انہوںنے سکھوں کی سی بنالی۔ کچھ پہن لیے اور مونچھیں بڑھالیں اور اسلام علیکم کی جگہ واہگوروجی کی فتح رہ گئی۔ یہ تو وہ حالت تھی جو سکھوں کے عہد میں ہوئی ۔ اب جب امن ہوا تو فسق وفجور میں ترقی کی اور ادھر عیسائیوں نے ہر قسم کے لالچ دیکران کو عیسائی بنانا چاہا اور ان کا وار خالی نہیں گیا۔ ہر گرجا میں ہر شریف قوم کی لڑکیاں اور لڑکے پائو گے جو مرتد ہو کر ان میں مل گئے ہیں۔ وہ کیسا درد ناک واقعہ ہوتاہے جب کسی شریف خاندان کی لڑکی کو پُھسلا کر لے جاتے ہیں اور پھر وہ بے پردہ ہو کر پھرتی ہے اور ہر قسم کے معاصی سے حصہ لیتی ہے ۔ ان حالات کو دیکھ کر ایک معمولی