گویا گری پڑتی ہے گرنے سے مراد یہ ہے کہ اس میں ذوق اور لذت نہیں بے ذوقی اور وساوس کا سلسلہ ہے اس لیے اس میں وہ کشش اور جذب نہیں کہ انسان جیسے بھوک پیاس سے بیقرار ہوکر کھانے اور پانی کے لیے دوڑتا ہے اسی طرح پر نماز کے لیے دیوانہ وار دوڑے ، لیکن جب وہ ہدایت پاتاہے تو پھر یہ صورت نہیں رہے گی اس میں ایک ذوق پیدا ہو جائے گا ۔ وساوس کا سلسلہ ختم ہو کر اطمینان اور سکینت کا رنگ شروع ہوگا۔ کہتے ہیں کسی شخص کی کوئی چیز گم ہوگئی تو اس نے کہا کہ ذرا ٹھہر جائو نماز میں یاد آجائیگی یہ نماز کا ملوں کی نہیں ہوا کرتی کیونکہ اس میں تو شیطان انہیں وسوسہ ڈالتا ہے لیکن جب کامل کا درجہ ملے گا تو ہر وقت نماز ہی میں رہے گا۔ اور ہزاروں روپیہ کی تجارت اور مفاد بھی اس میں کوئی ہرج اور روک نہیں ڈال سکتا۔ اسی طرح پر باقی جو کیفیتیں ہیں وہ نرے قال کے رنگ میں نہ ہوں گی ان میں حالی کیفیت پید اہو جائے گی اور غیب سے شہود پر پہنچ جاوے گا۔ یہ مراتب نرے سُنانے ہی کو نہیں ہیں کہ بطور قصہ تم کو سُنا دیا اور تم بھی تھوڑی دیر کے لیے سن کر خوش ہوگئے۔ نہیں یہ ایک خزانہ ہے اس کو مت چھوڑو۔ اس کو نکال لو ۔ یہ تمہارے اپنے ہی گھر میں ہے اور تھوڑی سی محنت اور سعی سے اس کو پا سکتے ہو۔ ایک شخص کے پاس کنواں ہو اور وہ اس کے گھر ہی میں ہو۔ لیکن وہ کیسا بد نصیب ہے اگر اسے اس کا علم نہ ہو اسی طرح اس مسلمان سے کون زیادہ بد نصیب ہے جس کو خدا تعالیٰ وعدہ دیتا ہے کہ میں اپنے کلام سے مشرف کروں گا مگر وہ اس کی طرف توجہ نہ کرے۔ یہ خدا تعالیٰ کا بڑا فضل ہے اور اسلام سے خاص ہے ۔ کسی آریہ سے پوچھو کہ تم وعدہ ہی دکھائو وہ یہ بھی نہیں دکھا سکتے ۔ ماتم زدہ اور مردہ وہ مذہب ہے جس کے الہام پر مہر لگ گئی اور ویران اور اُجڑا ہوا وہ باغ ہے جس پر خزاں کا قبضہ ہو چکا لیکن ربیع کا اثر اس پر نہیں ہو سکتا۔ کیسے افسوس اور تعجب کا مقام ہے کہ انسانی فطرت پر تو مہر نہ لگی اس میں تو معرفت حقیقی کی وہی بھوک پیاس موجود ہے لیکن الہام پر مہر لگادی گئی جو معرفت الٰہی کا سرچشمہ تھا افسوس بھوک میں غذا پھینک دی گئی اور پیاس کی حالت میں پانی لے لیا گیا۔ عیسائیت اور اسلام :۔ ایسا ہی عیسائی مذہب کا حال ہے ۔ باوجود ہزاروں ضعف اور غربت کے ایک عاجز انسان کو خدا بنانا اور بات ہے یہ تو نری لاف زنی ہے۔ زبان سے کہدیا لیکن ہم کہتے ہیں کہ اس کی خدائی مان کر جو فضل تم پر ہوا اور جو معرفت بڑھی ہے اُسے بھی توپیش کرو۔ یہ کیسا میزبان ہے کہ دعوت کرکے بلایا ہے اور بھوک پیاس بھی لگی ہوئی ہے ۔ ہاتھ دُھلا دیتے ہیں مگر نہ روٹی دیتاہے اور نہ پانی ۔ اس کی وجہ کیا ہے ؟ وجہ یہی ہے کہ وہ مردہ مذہب ہیں ۔ ان میں زندگی کے آثار اور زندگی کی حس وحرکت نہیں ۔ وہ خشک ٹہنیاں ہیں۔ ان میں اب پھل پھول نہیں نکل سکتے ۔ یہ صرف اسلام ہی ہے جو زندہ مذہب ہے۔ یہی ہے جس کا ربیع ہمیشہ آتاہے جبکہ اس کے درخت سر سبز ہوتے ہیں اور شیریں اور لذید پھل دیتے ہیں اس کے