نہیں بولتے یہ خوب یادرکھو کہ تقویٰ تمام دینی علوم کی کُنجی ہے ۔ انسان تقویٰ کے سوا ان کو نہیں سیکھ سکتا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے ۔ الٓمّٓ۔ ذٰلِکَ الْکِتَابُ لَا رَیْبَ فِیْہِ ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ ( البقرۃ:۲۔۳)یہ کتاب تقویٰ کرنے والوں کو ہدایت کرتی ہے اور وہ کون ہیں ؟ اَلَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ(البقرۃ:۴)جو غیب پر ایمان لاتے ہیں۔ یعنی ابھی وہ خدا نظر نہیں آتا اور پھر نماز کو کھڑی کرتے ہیں یعنی نماز میں ابھی پورا سرور اور ذوق پید انہیں ہوتا۔ تاہم بے لطفی اور بے ذوقی اور وساوس میں ہی نماز کو قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ خرچ کرتے ہیں اور جو کچھ تجھ پر یا تجھ سے پہلے نازل کیا گیا ہے اس پر ایمان لاتے ہیں۔ یہ متقی کے ابتدائی مدارج اور صفات ہیں جیسا کہ میں نے ایک مرتبہ بیان کیا تھا بظاہر یہاں اعتراض ہوتاہے کہ جب وہ خدا پر ایمان لاتے ہیں ۔ نماز پڑھتے ہیں، خرچ کرتے ہیں اور ایسا ہی خدا کی کتابوں پر ایمان لاتے ہیں، پرھ اس کے سوا نئی ہدایت کیا ہوئی ؟ یہ تو گویا تحصیل حاصل ہوئی ۔ یُنْفِقُوْنَ میں دونو باتیں داخل ہیں۔ یعنی دوسروں کو روٹی یا کپڑا یا مال دیتاہے اور یا قومی خرچ کرتاہے ۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ یہ عبارتیں اور یہ الفاظ اسی حد تک جو بیان کی گئی ہیںانسان کے کمال سلوک اور معرفتِ تامہ پر دلالت نہیں کرتے ۔ اگر ہدایت کا انتہائی نقطہ یُوْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ ہی تک ہو تو پھر معرفت کیا ہوئی ۲؎؟ اس لیے جو شخص قرآن مجید کی ہدایت پر کار بند ہوگا وہ معرفت کے اعلیٰ مقام تک پہنچے گا۔ اور وہ یُوْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ سے نکل کر مشاہدہ کی حالت تک ترقی کرے گا گویا خدا تعالیٰ کے وجود پر عین القین کا مقام ملیگا ۔ اسی طرح پر نماز کے متعلق ابتدائی حالت تو یہی ہوگی جو یہاں بیان کی کہ وہ نماز کو کھڑی کرتے ہیں یعنی نماز