ہوتے تو لوگ دہریہ کیوں بنتے ۱؎؟میں یقینا کہتا ہوں کہ دوسرے لوگ دہریوں کو خداتعالیٰ کی ہستی پر قائل نہیں کرسکتے ۔ لیکن ہمارے سامنے لائو۔ یہ تو ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ مان جاویں گے مگر ہم دعویٰ سے کہتے ہیں کہ وہ لاجواب ہوجائیں گے۔وہ طریق جس سے ہم دہریوں اور دوسروں پر حجت قائم کرتے ہیں وہ کیا ہے؟ خدا تعالیٰ کے اقتداری نشان اور اقتداری پیشگوئیاں۔ اسلام پر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل اور رحم ہے کہ ایک سچا مسلمان یہاں تک ترقی کرسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے اس کو مکالمہ مخاطبہ نصیب ہوجاتا ہے مگر یہ سب کچھ تقویٰ سے نصیب ہوتا ہے۔ تقویٰ تمام دینی علوم کی کُنجی ہے :۔ جہاں قرآن شریف میں تقویٰ کا ذکر کیاہے وہاں بتایا ہے کہ ہر ایک علم ( اس سے اُخروی علم مراد ہے زمینی اور دنیوی علم مراد نہیں ) کی جڑ تقویٰ ہی ہے اور تمام نیکیوں کی جڑ یہی تقویٰ ہے ۔ متقی کا خدا تعالیٰ خود متکفل ہوتا ہے اور اس کے لیے عجیب در عجیب نشان ظاہر کرتاہے۔ قرآن شریف نے شروع میں ہی فرمایا: ھُدیً لِّلْمُتَّقِیْنَ (البقرۃ :۳) پس قرآن شریف کے سمجھنے اور اس کے موافق ہدایت پانے کے لیے تقویٰ ضروری اصل ہے ۔ ایسا ہی دوسری جگہ فرمایا لایَمَسُّہٗ اِلَّا الْمُطَھَّرُوْنَ ( الواقعۃ:۸۰)دوسرے علوم میں یہ شرط نہیں ۔ ریاضی، ہندسہ و ہیئت وغیرہ میں اس امر کی شرط نہیں کہ سیکھنے والا ضرور متقی اور پرہیز گار ہو۔ بلکہ خواہ کیسا ہی فاسق و فاجر ہو وہ بھی سیکھ سکتاہے مگر علم دین میں خشک منطقی اور فلسفی ترقی نہیں کر سکتا اور اس پر وہ حقائق اور معارف نہیں کھل سکتے جس کا دل خراب ہے اور تقویٰ سے حصہ نہیں رکھتا اور پھر کہتاہے کہ علوم دین اور حقائق اس کی زبان پر جاری ہوتے ہیں وہ جھوٹ بولتاہے ۔ ہر گز ہرگز اُسے دین کے حقائق اور معارف سے حصہ نہیں ملتا بلکہ دین کے لطائف اور نکات کے لیے متقی ہونا شرط ہے جیسا کہ فارسی شعر ہے :۔ عروسِ حضرتِ قرآں نقاب آنگہ بردارد کہ دارالملکِ معنی راکند خالی زہر غوغا جب تک یہ بات پیدا نہ ہو اور دارالملک ِ معنی خالی نہ ہو، ہو غوغا کیا ہے؟ یہی فسق و فجور دنیا پسندی ہے۔ ہاں یہ جُدا امر ہے کہ چور کی طرح کچھ کہلائے تو کہہ دے۱؎لیکن جو روح القدس سے بولتے ہیں وہ بجز تقویٰ کے