مخلوقات اس کے وجود پر دلائل ہیں‘مثلاً یہ کہ چاند سورج بطور نشان کے ہیں توان کے عقیدہ کے موافق اللہ تعالیٰ کی ہستی پر یہ دلیل نہیں ہوسکتی کیوں کہ ان کے مذہب کے موافق ارواح یعنی جیو خود بخود ہیں اور وہ انادی ہیں۔ خدا تعالیٰ نے ان کو پیدا ہی نہیں کیا۔ جب وہ پیدا شدہ ہی نہیں ہیں تو اپنے پیدا کرنے والے پر دلیل کس طرح ہوسکتے ہیں۔
اسی طرح پر ان کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ ذرات جن کو اجسام کہتے ہیں یہ بھی خود بخود ہیں۔ پرمیشر کا صرف اتنا کام ہے کہ وہ ان کو جوڑ جاڑ دیتا ہے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ جب وہ عظیم الشان کام خود بخود ہیں تو جوڑنے جاڑنے کے لیے اس کی کیا حاجت ہے ؟وہ بھی خود بخود ہوجائے گا۔ اس لیے آریوں کے عقیدہ کے موافق پرمیشر کے وجود پر کوئی دلیل نہیں۔ اگر ان سے پوچھا جاوے کہ پرمیشر کے وجود پر کیادلیل ہے؟ تو جواب یہی ہے کہ کوئی نہیں ۔ نہایت کاروہ یہ کہیں گے کہ وہ ارواح اور مواد کو جوڑتا جاڑتا ہے۔سو یہ کچی اور بیہودہ بات ہے ۔ کوئی عقلمند انسان اس کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہوسکتا۔
اسلام کے نزدیک خدا تعالیٰ کی ہستی کا ثبوت:۔
برخلاف اس کے اسلام یہ سکھاتا ہے کہ کوئی چیز خود بخود نہیں خواہ وہ ارواح ہوں یا اجسام ‘ سب کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔ ہر چیز کا مبدء فیض اور سرچشمہ وہی ہے ۔ اس لحاظ سے اس
کے مصنوعات پر نظر کر کے ہم اس کو پہچان سکتے ہیں ۔ پس یہ دلیل اگر کام دے سکتی ہے اور مفید ہوسکتی ہے تو مسلمانوں کے لیے ‘لیکن اللہ تعالیٰ نے اتنی ہی معرفت مسلمانوں کو نہیںدی بلکہ اپنی شناخت اور معرفت کے اور بہت سے نشانات ان کو دئیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے ۔
لَھُمُ الْبُشْرٰی فِیْالْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا (یونس:۶۵)
اور پھر فرماتا ہے :۔ اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَااللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْھِمُ الْمَلآئِکَۃُ (حٰمٓ السجدہ :۲۱)
یعنی جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے اور پھر اس پر انہوں نے استقامت دکھائی اور کوئی مشکل اور مصیبت انہیں اس اقرار سے پھیر نہیں سکی ان پر ملائکہ کا نزول ہوتا ہے۔ یہ بڑا بھاری طریق ہے خدا کو پہنچاننے کا۔ اس سے وہ یقین پیدا ہوتا ہے جو انسان کو نجات کا وارث بنا دیتا ہے کیوں کہ جب اللہ تعالیٰ کے وجود پر کامل یقین پیدا ہو جاوے تو انسان کی زندگی میں ایک معجزہ نما تبدیلی ہوتی ہے وہ گناہ آلود زندگی سے نکل آتا ہے اور پاکیزگی اور طہارت کا جامہ پہن لیتا ہے اور یہی نجات ہے جو اس کو گناہ سے بچالیتی ہے ۔اس کے ثمرات اور برکات خداتعالیٰ پر کامل یقین اور توکل پیدا ہونے لگتے ہیں اور معجزات اور نشانات مشاہدہ کرائے جاتے ہیں۔
اب چونکہ زمین وآسمان پر مدت ہائے دراز گذر گئی ہیں اس لیے نرا ان کا وجود یقین کے لیے کافی نہیں ۔ اگر یہ کافی