دکھائیں اور ان میں تازگی اور شگفتگی پیدا نہ ہو ۔ پھر وہ کیا بچیں گے۔ آخر وہ تو کاٹ کر جلا لیے جائیں گے۔ یہی حال اس وقت دوسرے مذاہب کا ہو رہا ہے ۔ ان پر خزاں کا اثر تو ہوچکا مگر ربیع کا دور ان میں نہیں آتا۔ اور خود ان کے ماننے والے تسلیم کرتے ہیں کہ ان میں وہ برکات‘ تاثیرات اور ثمرات جو ایک زندہ مذہب میں ہونے چاہئیں ‘نہیں ہیں تو پھر ان کی اپنی شہادت کے موجود ہوتے ہوئے کسی اور دلیل کی کیا حاجت ہے ؟ ہندو مذہب اور عیسائیت :۔ ہندوئوں اور عیسائیوں کے مذہب پر تو خزاں کا تصرف اور دخل ہوچکا۔ ان میں کوئی تاثیرات اور نشانات نہیں ہیں ۔ میں علانیہ کہتا ہوں کہ ان میں زندہ مذہب کی برکات نہیں ہیں۔ اگرمیں جھوٹ کہتا ہوں تو میں ہرسزا کے لیے جو وہ میرے لیے تجویز کریں تیار ہوں‘ لیکن سچ یہی ہے کہ وہ روحانیت سے خالی ہیں اور بالکل مرچکے ہیں۔ ان میں زندگی کے آثار بالکل نہیں ۔ وہ بے حس وحرکت پڑے ہوئے ہیں اور ان مذاہب کو ماننے والے صرف ایک مردہ کو لیے ہوئے ہیں کیوں کہ وہ خدا جس پر کامل یقین اس سے سچا تعلق پیدا کردیتا ہے اور جس تعلق سے پھر نجات ملتی ہے وہ ان کے نزدیک ایک وہمی ہستی ہے جس پر کوئی روشن دلیل نہیں ہے۔ کیاکوئی ان میں ایسا شخص ہے جو یہ دعویٰ کرے کہ میں نے خدا تعالیٰ کو خود بولتے سنا ہے؟ اس نے میری دعائوں کاجواب دیا ہے؟ یا اس نے اپنے فضل سے غیروں میں امتیاز کے لیے کوئی خارق عادت نشانات ایسے دئیے ہیں جس سے اس میں اور اس کے غیروں میں امتیاز قائم ہوجاوے اگر کوئی ایسا شخص ہے تو اس کا نشان دو۔ اور اگر نہیں اور یقینا نہیں تو پھر اس امر کے تسلیم کرنے میں سب طرح ۲؎سے کام نہ لو کہ فی الحقیقت یہ مذہب خزاں کا نشانہ ہو چکے ہیں۔ خدا تعالیٰ کی ہستی پر جیسی یہ واضح دلیل ہے کہ خود وہ اپنے بندے سے کلام کرے اور نشانات ظاہر ہوں اور کوئی دلیل اس کے مقابلہ میں نہیں آسکتی باقی صرف قیاسات ہیں۔ آریوں کے عقیدہ کے موافق خدا کی ہستی پر کوئی دلیل نہیں:۔ وید کی رو سے یہ طے شدہ امر ہے کہ اب کوئی نشان ظاہر نہیں ہوسکتا اور خدا تعالیٰ کسی سے کلام نہیں کرتا اور خواہ کوئی شخص کتنا ہی اسے پکارے اس کی پکار کا جواب اسے مل ہی نہیں سکتا۔ کبھی ایک بار خدا تعالیٰ نے کلام کیا تھا مگر اب وہ خاموش ہے۔ جب یہ اصول اور عقیدہ ہو تو بتائو اس سے انسان کو خد ا تعالیٰ کے وجو د پر یقین لانے کے لیے کیا تسلی ہوسکتی ہے اور اس سے وہ یقین کیونکر پیداہوسکتا ہے جس سے انسان حقیقی نجات حاصل کرے۔ یہ تو سچی بات ہے کہ خدا تعالیٰ کے وجود پر ایمان لانے کے لیے دلائل کی حاجت ہے اگر مصنوعات اور