کی سچائی پر ہزاروں ہزار دلائل ہیں۔ لیکن یہ پہلو آپ کی حقانیت کے ثبوت میں ایک علمی پہلو ہے۔ جس کا کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ اور جس دلیل کو کوئی توڑ نہیں سکتا۔ یا تو عربوں کی وہ حالت تھی اور یا یہ تبدیلی کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اَللّٰہُ اَللّٰہُ فِیْ اَصْحَابِیْ۱؎۔ اللہ تعالیٰ کے نام سے ناواقف اور اس سے دور پڑی ہوئی قوم کو اس مقام تک پہنچا دینا کہ پھر ان کی نظر ماسوی اللہ سے خالی ہو جاوے۔ یہ چھوٹی سی بات نہیں ہے۔
(۳) پھر آپ کی حقانیت پر ایک اور دلیل بھی عجیب تر ہے جس کی نظیر دوسرے مذاہب میں پائی نہیں جاتی اور وہ آپ کے دئیے ہوئے مذہب کا زندہ مذہب ہونا ہے۔ زندہ مذہب وہ مذہب ہوتا ہے جس کی زندگی کے آثار ہر وقت ثابت ہوتے رہتے ہیں۔ اس کے ثمرات اور برکات اور تاثیرات کبھی مردہ نہیں ہوتے بلکہ ہر زمانہ میں تازہ بتازہ پائے جاتے ہیں۔ جو درخت خریف کے دنوں میں ٹنڈ ہوجاتے ہیں اور کوئی پھل پھول اور پتا ان کا نظر نہیں آتا بلکہ نری خشک لکڑیاں نظر آتی ہی انہیں دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ پھلدار درخت ہے۲؎۔ لیکن جب ربیع کا موسم شروع ہوتا ہے اور خزاں کا دور ختم ہوجاتا ہے تو پھلدار درختوں کی شان ہی الگ ہوتی ہے ۔ ان میں پھل پھول شروع ہوجاتے ہیں جیسے یہ خریف اور
ربیع کا دور جسمانی رنگ میں ہے اسی طرح پر روحانی طور پر دین میں بھی خریف اور ربیع کے دو سلسلے ہوتے ہیں۔ ایک صدی جب گذر جاتی ہے تو لوگوں میں سستی اور غفلت اور دین کی طرف سے لاپرواہی شروع ہوجاتی ہے اور ہر قسم کی اخلاقی کمزوریاں اور عملی اور اعتقادی غلطیاں ان میں پیدا ہوجاتی ہیں۔ یہ زمانہ غفلت اور لاپرواہی کا خریف کے زمانہ سے مشابہ ہوتا ہے۱؎۔ اس کے بعد دوسرا دور شروع ہوتا ہے اور یہ ربیع کا زمانہ ہے۔ یہی وہ زمانہ ہے جس کے لیے آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ ہر صدر کے سر پر اللہ تعالیٰ ایک مجدد کو بھیج دیتا ہے جو نئے سرے سے دین کو تازہ کرتا ہے۔
پس یہ مجدد کا اور اسلام کا تازہ بتازہ رہنا آنحضرت ﷺ اور اسلام کی حقانیت کی دلیل ہے کیوں کہ اسی سے اس مذہب کی زندگی ثابت ہوتی ہے۔ غور کرو کہ جن باغوں کے لیے خریف ہی ہو اور ربیع میں وہ اپنا کوئی نمونہ نہ