کی سچائی کی ایسی جمع ہوئی ہیں کہ نہ حضرت موسیٰ کو ملیں او ر نہ حضرت عیسیٰ کو (علیہم السلام ) سب جانتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو ایسی قوم میں آئے جو تورات پڑھتے تھے اور فقیہوں فریسیوں کے تابع تھے۔ یہ سچ ہے کہ ان میں غافل دنیا دار بھی تھے لیکن پھر بھی تورات پڑھی جاتی تھی۔ بیت المقدس قبلہ موجود تھا‘ لیکن آنحضرت ﷺ جس قوم میں آئے وہ تو کسی بات کے بھی قائل نہ تھے نہ ان میں کوئی شریعت تھی اور نہ وہ کسی کتاب کے قائل اور پابند بلکہ اکثر تو خدا تعالیٰ کے بھی قائل نہ تھے۔ وہ کہتے تھے۔ مَاھِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا وَنَحْیَا وَمَا یُھْلِکُنَآ اِلَّا الدَّھْرُ(الجاثیۃ: ۲۵) وہ جو کچھ سمجھتے تھے اسی دنیا کو سمجھتے تھے کہ آگے جا کر کسی نے کیا دیکھا ہے۔ یہی دنیا ہی دنیا ہے ۔ اس آیت میں دہر کا لفظ اسی لیے بیان کیا ہے تاکہ ظاہر کیا جاوے کہ وہ دہریہ تھے اور میں یہ جانتا ہوں کہ اس وقت عرب میں قریباً تمام بیہودہ اور باطل مذہب جمع ہوئے تھے ۔ وہ گویا ایک چھوٹا سا نقشہ تھا جو گندے اور افراط تفریط کے طریق تھے۔ وہ عملی طور پر اس میں دکھائے گئے تھے۔ جیسے کسی ملک کا نقشہ ہو۔ اس میں سب مقام موٹے موٹے دکھائے جاتے ہیں۔ اسی طرح وہاں کی حالت تھی۔ یہ کیسی بڑی روشن دلیل آپ کی سچائی کی ہے کہ ایسی قوم اور ایسے ملک میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث فرمایا۔ جو انسانیت کے دائرہ سے نکل چکا تھا۔ میں بڑے زور سے کہتا ہوں کہ خواہ کیسا ہی پکا دشمن ہو اور خواہ وہ عیسائی ہو یا آریہ جب وہ ان حالات کو دیکھے گا جو آنحضرت ﷺ سے پہلے عرب کے تھے اور پھر اس تبدیلی پر نظر کرے گا جو آپ کی تعلیم اور ثاثیر سے پیدا ہوئی تو اسے بے اختیار آپ کی حقانیت کی شہادت دینی پڑے گی۔ موٹی سی بات ہے کہ قرآن مجید نے ان کی پہلی حالت کا تو یہ نقشہ کھینچا ہے۔ یَاْکُلُوْنَ کَمَا تَاْکُلُ الْاَنْعَامُ(محمد:۱۳) یہ تو ان کی کفر کی حالت تھی پھر جب آنحضرت ﷺ کی پاک تاثیرات نے ان میں تبدیلی پیدا کی تو ان کی یہ حالت ہوگئی یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّھِمْ سُجَّداً وَّقِیَاماً(الفرقان :۶۵) یعنی وہ اپنے رب کے حضور سجدہ کرتے ہوئے اور قیام کرتے ہوئے راتیں کاٹ دیتے ہیں جو تبدیلی آنحضرت ﷺ نے عرب کے وحشیوں میں کی اور جس گڑھے سے نکال کر جس بلندی اور مقام تک انہیں پہنچایا۔ اس ساری حالت کے نقشہ کو دیکھنے سے بے اختیار ہو کر انسان رو پڑتا ہے کہ کیا عظیم الشان انقلاب ہے جو آپ نے کیا ۔ دنیا کی کسی تاریخ اور کسی قوم میں اس کی نظیر نہیں مل سکتی ۔ یہ نری کہانی نہیں۔ یہ واقعات ہیں جن کی سچائی کا ایک زمانہ کو اعتراف کرنا پڑا ہے۔ (۲) قرآن مجید تو ایسی کتاب ہے کہ وہ ان میں پڑھی جاتی تھی اور یہ سب باتیں اس میں درج ہیں۔ کفار سنتے تھے جہاں وہ اس کی مخالفت کے لیے ہرقسم کی کوششیں کرتے تھے۔ اگر یہ باتیں غلط ہوتیں تو وہ آسمان سرپر اٹھالیتے کہ یہ ہم پر اتہام اور الزام ہے۔ یہ معمولی بات نہیں بلکہ بہت ہی قابل غور مقام ہے۔ آنحضرت ﷺ