میں دلیر تھے۔ اس لیے ضرورت تھی کہ آنحضرت ﷺ وہاں ہی آتے جہاں نہ حقوق اللہ کی پروا کی جاتی تھی اور نہ حقوق العباد کی کوئی رعایت باقی تھی ۔ جیسا کہ میں نے کل ذکر کیاتھا کہ خدا تعالیٰ نے جو یہ ذکر قرآن مجید میں کیا ہے کہ اگلے انبیاء علیہم السلام کی بعثت کے وقت ایسے ایسے خبیث موجود تھے کہ ان کی مختلف بدیان ذکر کی ہیں اور پھر اس کے بعد یہ فرمایا کہ آنحضرت ﷺ کے وقت آدم سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک جس قدر بدیاں مختلف اوقات میں پیدا ہوئیں وہ آپ کو پکار پکار کر بیان کر رہا تھا اور یہ ایک امر آپ کی سچائی کی دلیل ہے اور یہ ایسی واضح دلیل ہے کہ اس کو ہر شخص سمجھ سکتا ہے۔ عام طور پر سب جانتے ہیں کہ جب مثلاً کوئی بیماری درجہ کمال تک پہنچ جاوے اور وہ ایسی عالمگیر ہو جاوے کہ ہر طرف موت ہی موت نظر آنے لگے تو عادت اللہ یہی ہے کہ اس وقت کوئی نہ کوئی علاج اس کانکل آتا ہے اور گورنمنٹ کو بھی اس کے انسداد اور علاج کی طرف خاص توجہ ہونے لگتی ہے وہ دیکھتی ہے کہ یہ اندھیرہوا کہ موت ہی موت ہونے لگی۔ اسی طرح پر روحانی نظام ہے جب کسی ملک اور قوم کی حالت بگڑ جاتی ہے اور وہ انسانیت کے جامہ سے نکل کر وحشیانہ حالت میں آجاتی ہے اور ہر قسم کی بدیوں اور بدکاریوں میں مبتلا ہوجاتی ہے تواللہ تعالیٰ اس کی اصلاح کا کوئی سامان پیدا کردیتا ہے ۔ یہ بالکل صاف بات ہے۔
آنحضرت ﷺ کی صداقت کے دلائل :۔
پس جب عرب کی حالت ایسی خراب ہوگئی تو ضروری تھا کہ اس کی اصلاح کے لیے اللہ تعالیٰ کسی کامل انسان کو بھیجتا ۔ چنانچہ آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا۔ جو ایسے وقت آئے کہ دنیا آپ کی اصلاح کے لیے پکار رہی تھی ۔ یہ خدا تعالیٰ کے رحم کا تقاضا تھا اور مسلمانوں کے لیے یہ فخر اور ناز کا مقام ہے کہ آپ کی بعثت کے وقت زمانہ کی حالت آپ کی سچائی کی ایک روشن دلیل ہے پھر اس کے بعد آپؐ نے جو اصلاح کی وہ بھی آپ کی حقانیت کی دلیل ہے کیوں کہ جب ایک طبیب بیماروں میں آوے اور مختلف قسم کے مریض موجود ہوں ۔ کوئی طاعون میں مبتلا ہو۔ کوئی دق سل کا شکار اور کوئی ذات الریہ اور ذات الجنب وغیرہ میں اور پھر وہ طبیب اپنے علاج سے اکثروں کو اچھا کردے تو اس کے حاذق اور ڈاکٹر ماننے میں کیا شبہ ہوسکتا ہے۔ بلا تکلف ماننا پڑے گا کہ وہ کامل طبیب ہے لیکن جب کہ وہ سب ہی کو اچھا کردے اور جو دعویٰ کرے اس کو پورا کردکھائے اور ایسا کہ اس کی نظیر ہی نہ مل سکے تو پھر اس کے کمال میں کوئی شک ہی نہیں ہوسکتا۔ اسے راستباز اور اپنے فن میں یکتا ماننا پڑے گا۔ یہی حال آنحضرت ﷺ کا ہے کہ وہ ایسے وقت آئے کہ ضرورت پکار رہی تھی اور پھر اپنی تاثیرات سے ان تمام روحانی مریضوں کو جو اس وقت پڑے ہوئے تھے اچھا کردیا۔ میں دیکھتا ہوں اور دعویٰ سے کہتا ہوں کہ دو دلیلیں آنحضرت ﷺ