ادا کریں اور اس کی قدر کریں۔ مگر افسوس ہے کہ مسلمانوں نے جیسا شکرگذاری کا حق تھا ادا نہیں کیا۔ چاہیئے تو یہ تھا کہ جب امن ہوگیا تھا تو خدا تعالیٰ کی طرف زیادہ توجہ کرتے اور عبادت میں مشغول ہوتے ۔ مگر نماز تو درکنا ر بانگ تک کے روادار نہیں ہیں بلکہ ناگفتنی عیبوں میں مبتلا ہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ یہ امن تو اس لیے تھا کہ نیکی میں ترقی کریں مگر انہوںنے اس کے برخلاف کیا۔ یہ سچ ہے کہ امن کی حالت دو پہلو رکھتی ہے خواہ انسان نیکی میں ترقی کرے یا شراب خانے میں چلا جاوے ۔ مگر میں افسوس سے ظاہر کرتا ہوں کہ مسلمانوں نے اس سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش نہیں کی ۔ مگر ہماری جماعت کو چاہیئے کہ وہ اس سے فائدہ اُٹھائے ۴؎ حالت زمانہ ضرورت ِ امام کی داعی ہے :۔ میں یہ کہہ چکا ہوں کہ پنجاب میں یہ سلسلہ کیوں قائم ہوا؟ سکھوں کا زمانہ ایسا تھا جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے مکہ میں قریش کا زمانہ تھا۔ اب تک بھی کہ ان کے عہد کو گذرے پچاس ساٹھ سال ہونے کو آئے پھر بھی دوسرے ہندوئوں کی نسبت ان کی حالت وحشیانہ پائی جاتی ہے۔ خلاصہ یہ کہ انسانی فطرت کا تنزل ہوگیا تھا اور رقریب تھا کہ لوگ جانوروں کی سی زندگی بسر کرنے لگیں۔ صرف دم کی کسر باقی رہ گئی تھی۔ مسلمانوں سے بعض کی حالت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ انہوں نے کَچھ پہن لی تھی اور سکھ ہوگئے تھے اس لیے یہ ملک حق رکھتا تھا کہ خدا تعالیٰ اس سلسلہ کو یہاں ہی قائم کرتا کیوں کہ جو ملک زیادہ جہالت میں ہواس کا حق ہوتا ہے کہ اس کی اصلاح ہو۔ یہی وجہ تھی جو آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں عرب کا حق سب سے بڑھ کر تھا کیوں کہ وہاں کی حالت ایسی خراب ہوچکی تھی کہ کسی دوسری جگہ اس کی نظیر پائی نہیں جاتی تھی۔ ان کی حالت ایسی وحشیانہ تھی کہ اس کو بیان کرتے ہوئے بھی شرم آجاتی ہے۔ وہ بالکل خلیع الرسن ہوچکے تھے۔ قمار باز وہ تھے۔ شرابخور وہ تھے۔ یتیموں کامال مار کر کھا جاتے تھے۔زنا کرنے میںدلیر اور بے باک تھے۔ غرض خیانت ‘ بددیانتی اور ہر قسم کے فسق وفجور اور معصیت