پرامن دورحکومت :۔ اب خیال کروکہ انگریزوں کا قدم کس قدر مبارک ہے اور ان کے آنے سے کس قدر ترقیات ہوئی ہیں۔ کتابوں کی اشاعت ہی کی طرف دیکھو کیسی ہو رہی ہے۔ ایک شخص کمے شاہ نام کہنے لگا کہ میرے مرشد ہمیشہ صحیح بخاری کی تلاش میں رہا کرتے تھے اور پنج وقت اس کے ملنے کے لیے دعا کیا کرتے تھے اور کبھی کبھی مایوس ہو کر رونے لگتے تھے اور اس قدر روتے کہ ہچکیاں بندھ جاتی تھیں اور اب یہ حال ہے کہ صحیح بخاری تین چار روپے کو مل جاتی ہے ۔ لیکن اُس وقت یہ حال تھا کہ کسی ملاں کے پاس بھی اگر کوئی کتاب ہوتو بس کنز، قدوری ، کافیہ تک ہی اس کی تعداد ہو سکتی تھی اور اس وقت اس قدر خزانے نکل آئے ہیں کہ کوئی ان کو گن بھی نہیں سکتا۔ غرض میں سچ کہتاہوں کہ گورنمنٹ کا قدم ڈالنا اس سلسلہ کے لیے بطور اِرہاص تھا۔ ارہاص یہ ہوتا ہے کہ اصل چیز کے ظہور سے پہلے علامات ظاہر ہوں۲؎۔ اب غور کرکے دیکھ لو کہ یہ کیسے صاف صاف نشان ہیں۔ کتابوں کے ذخیرے نکل آئے۔ ان کے چھاپنے اور شائع کرنے میں ہر قسم کی آسانیاں ہوگئیں۔ ارکان مذہبی کے اداکرنے میں کوئی روک اور مزاحمت نہیں ۔ کوئی بانگ اور نماز سے روک نہیں سکتا یا تو وہ وقت تھا کہ گائے کے بدلے خون ہو جاتے تھے مجھے معلوم ہے کہ ایک وقت سکھوں کے عہد میں محض ایک جانور کے لیے سات ہزار آدمی مارے گئے ۔ اور بٹالہ کا ایک واقعہ مشہور ہے ۔ بھنڈاری جو وہاں کے رئیس ہیں ان کی حکومت تھی ۔ ایک سید شام کو دروازے میں داخل ہو اتو وہاں گائے بھینسوں کا بڑا ہجوم تھا۔ اس نے تلوار کی نوک سے ایک گائے کو ہٹایا جس کی وجہ سے اس کی دُم کے پاس ذراسی خراش ہوگئی ۔ برہمن اُسے پکڑ کر لے گئے اور اس جرم میں اس کا ہاٹھ کاٹ ڈالا۔ اس قسم کے ظلم اور سختیاں ہوتی تھیں۔ اب بتائو کہ ہم لوگ جنہوںنے اس قدر مصیبتیں اُٹھائی ہیں اگر اس کا انکار کریں ۳؎ تو پھر خدا کا انکار کرنے والے ٹھہریں گے ۔ اس وقت ایسا امن ہے کہ جو چاہے اور جس طرح چاہے عبادت کرے، بانگ دے ، کوئی روکنے والا نہیں۔ اس لیے ہمارا فرض ہے کہ خد تعالیٰ کی اس نعمت ( گورنمنٹ انگلشیہ ) کا شکریہ