حکمت ہے کہ پنجاب کو ترجیح دی؟ اس میں جو حکمت ہے وہ تجربہ سے معلوم ہوتی ہے اور وہ یہ ہے کہ پنجاب کی زمین نرم ہے اور اس میں قبول حق کا مادہ ہندوستان کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہے ۔ مجھے کئی مہینے تک دلّی اور دوسری جگہ رہنے کا اتفاق ہوا ہے مگر انہوں نے قبول نہیں کیا اور برخلاف اس کے پنجاب میں لوگوں نے مجھے اس وقت قبول کیا جب دوسروں نے نہیں کیا۔ حالانکہ میں نے ان کو اپنے دعویٰ کے دلائل سنائے قرآن اورحدیث کو ان کے سامنے پیش کیا، نشانات پیش کئے مگر انہوں نے نہیں مانا ( الا ماشاء اللہ) پس یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس ملک میں اُس نے اس سلسلہ کو قائم کیا۔ علاوہ بریں یہ ملک حق رکھتا تھا کہ یہ سلسلہ قائم ہو ۔ کیونکہ چالیس پچاس برس تک سکھوں کا دھکا کھا چکا تھا ۔ بچوں کو تو ان دکھوں اور تکلیفوں کی خبر نہیں ۔ اور میں بھی اس وقت بچہ تھا۔ اس لیے پورا علم تو نہیں مگر جس قدر علم مجھے ہے وہ ایسا ہی ہے جیسا روئیت کا علم ہوتاہے ۔ اس وقت اگر بانگ دی جاتی تو اس کی سزا بجز اس کے اور کچھ نہیں ہوتی تھی کہ بانگ دینے والا قتل کیا جاوے۔ حالانکہ یہ لوگ جانتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ جب وہ سنکھ وغیرہ بجاتے ہیں تو ہم کبھی اُن کے مزاحم نہیں ہوتے اور نہ انہیں تکلیف دیتے ہیں مگر بانگ سے انہیں ایسی ضد تھی کہ جو نہی کسی نے دی وہ قتل کیا گیا ۔ جس جگہ میں اس وقت کھڑا ہوں یہ کار داروں کی جگہ تھی اور دارالحکومت نہیں بلکہ دارالظلم تھا۔ جب انگریزی عدالت کا شروع شروع میں دخل ہوا۔ اس وقت یہاں ایک کاردار رہتا تھا۔ ۱؎اس کا ایک سپاہی مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے گیا ۔ اُس نے ملاں کو کہا کہ بانگ دے ۔ مگر ملاں نے بہت ہی آہستہ آہستہ بانگ کہی۔ سپاہی نے کہا کہ اونچی آواز میں بانگ کیوں نہیں دیتا جو دوسروں تک بھی پہنچ جائے ؟ ملاں نے کہا میں اونچی اواز سے بانگ کیونکر دوں کیا میں پھانسی چڑھوں؟ اس پر سپاہی نے کہا کہ نہیں ، تو کوٹھے پر چڑھ کر بہت اونچی آواز سے بانگ دے کیونکہ وہ جانتا تھا کہ سلطنت کی تبدیلی ہو چکی ہے ۔ آخر جب ملاں نے سپاہی کے کہنے سے بلند آواز سے اذان دی تو ایک شور مچ گیا اور کاردار کے پاس جاکر شکایت کی گئی کہ ہمارے آٹے بھر شٹ ہوگئے اور ہم اور ہمارے بچے بھوکے رہے۔ ہم پر ظلم ہوا۔ اس پر کاردار نے کہا کہ اچھا پکڑلائو۔ ملاں کو پکڑ کے لے گئے ۔ وہ نیک بخت سپاہی بھی ملاں کے پیچھے پیچھے گیا۔ جب ملاں کاردار کے سامنے گیا تو کاردار نے اس سے پوچھا کہ تونے بانگ دی ہے؟ سپاہی نے آگے بڑھ کر کہا کہ اس نے نہیں دی بانگ تو میں نے دی ہے ۔ جب کار دار نے یہ سُنا تو اس نے شکایت کرنے والوں کو کہا کہ اندر جاکر بیٹھو۔ لاہو میں تو گائے ذبح ہوتی ہے۔۲؎