طرف سے جاری نہیں ہوا۔ اور نہیں پوچھا گیا کہ تم اپنے مذہب کی اشاعت کیوں کرتے ہو؟ پھر بتائو کہ ہم اگر اس کی اس آزادی اور امن کے لئے اس کی تعریف کریں اور اس کے لیے شکر گذاری کا جوش ظاہر کریں تو یہ خوشامد ہو سکتی ہے ۔؟ یہ تو امر واقعہ کا اظہار ہے اور اگر کوئی ایسا نہ کرے تو میں یقینا کہتاہوں کہ وہ خدا تعالیٰ کے حضور سخت گنہگار ہے ۔ میں نے خوب غور کیا ہے اور تجربہ نے ہمیں بتا دیا ہے کہ اس قوم کی فطرت میں ہے کہ باوجود یکہ ہم نے عیسائی مذہب کی غلطیوں اور کمزوریوں کو سخت سے سخت طریق سے ظاہر کیاہے مگر اس نے یہ سمجھ کر جو آزادی اُس نے عیسائیوں کو دی ہے کہ وہ دوسرے مذاہب کا رد کریں اوراپنے دین کی اشاعت کریں اس کے سایہ میں ہونے کی وجہ سے ویسے ہی حقدار ہیں اوراُن کے فطرتی انصاف نے اس مساوات کو توڑنے کا ارادہ نہیں کیا۔ ہر ایک کو اپنے مذہب کی اشاعت کے لیے پوری آزادی دی ہے بلکہ اس سے بھی عجیب تر یہ بات ہے کہ جب ایک جنٹلمین پادری نے مجھ پر اقدام قتل کا مقدمہ کیا تو گورنمنٹ نے اپنے انصاف کا کامل نمونہ دکھایا۔ اگر ہمارے ساتھ کوئی کینہ ہوتا تو یہ عمدہ موقعہ تھا کہ ہمیں دُکھ دیا جاتا۔ لیکن میں دیکھتاتھا کہ کوئی رعائیت اس جنٹلمین پادری کی میرے مقابلہ میں نہیں کی جاتی تھی۔ صاحبِ ضلع مجھے عزت سے بُلاتے تھے اور کرسی دیتے رہے ۔ انجام کار جب انہیں بخوبی معلوم ہوگیا کہ وہ مقدمہ محض شرارت سے مجھ پر بنایا گیا ہے اور سراسر جھوٹا ہے تو اس نے کہا کہ یہ بدذاتی مجھ سے نہیں ہو سکتی کہ سزا دے دوں ۔ چنانچہ اس نے عزت کے ساتھ مجھے بری کیا۔ ۱؎
اور یہ بات مجھ سے ہی خاص نہیں بلکہ سب کے لیے یکساں حقوق حاصل ہیں۔ اگر ہمیں یہ تجربہ ذاتی بھی نہ ہوتا تو بھی ہم شکرگذاری کے لیے بہت سے سامان پاتے ہیں اور علاوہ بریں یہ بات ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کسی قوم کو اس قدر اقبال مندی اور غیر ملکوں پر اس قدر فتوحات نہیں دیتا جب تک اس میں خوبی نہ ہو اور یہ تو ایک کھلی کھلی بات ہے کہ اس وقت اگر گورنمنٹ نہ ہو تو سب کے سب آپس ہی میں لڑکر مر جاویں ۔ یہ ایسا ثالث ہے کہ اُس نے اپنے انصاف اور اقبال سے باہمی جھگڑوں سے بچالیاہے ۔ ہماری جماعت کا ہر ایک آدمی سوچ کر دیکھ لے کہ کیا اس کا کسی اور جگہ گذارہ ہو سکتا ہے۔ وہ اگر اس سلطنت کے سایہ میں نہ ہوتو اس کے دشمن اسے قسم قسم کے عذاب دے کر ہلاک کر دیں۔ اگر کوئی جاہل یہ سمجھے کہ ہاں کسی اور جگہ گذارہ ہو سکتاہے تو میں اُسے حیوانات میں سمجھتاہوں۔