ہیں کہ اس وقت کس امن اور آزادی کے ساتھ اس سلسلہ کی اشاعت کر رہے ہیں۔ پچیس سال سے زیادہ عرصہ سے ہم اس اشاعت کے کام میں لگے ہوئے ہیں اور پوری آزادی اور امن سے اُسے کر رہے ہیں۔ خود گورنمنٹ کے ملکوں (بلاد یورپ) میں سولہ ہزار اشتہار دعوتِ اسلام کا میں نے جاری کیا۔ او روہ اشتہارات معمولی آدمیوں میں تقسیم نہیں کئے گئے بلکہ معززین کو بھیجے گئے ( جن میں شاہی خاندان کے ممبر اور گورنمنٹ کے اعلیٰ عہدے دار اور اراکین شامل تھے) یہاں تک کہ ملکہ معظمہ کو بھی ایک کتاب دعوتِ اسلام کی بھیجی گئی اور انہوں نے ایسی محبت اور قدر سے اُسے دیکھا کہ بذریعہ تار ایک اور نسخہ اس کا منگوایا۔ یہ عجیب بات ہے ۔ یہ کیسا خدا تعالیٰ کا ہم پر فضل اور احسان ہے کہ اس نے ایسی جگہ ہمیں بھیجا جہاں ہر طرح پوری آزادی کے ساتھ اپنے فرض کو ادا کر سکتے ہیں۔ میں سچ سچ کہتاہوں کہ ہم اس کی نظیر دوسری جگہ نہیں پاسکتے۔ لوگ اس پر تعجب کریں گے یا خام خیالی اور ظاہر پرستی کی وجہ سے میری ان باتوں کو خوشامد پر قیاس کریں گے ۔ مگر میں حلفاً کہتا ہوں کہ اگر یہ سلسلہ مکہ معظمہ میں جاری ہوتا تو ہر روز دو چار خون ہوتے ۔ ایسا ہی مدینہ یا روم میں ہوتا تو کوئی سزا پاتا، کوئی کوئی دُکھ پاتا۔ غرض کسی نہ کسی مصیبت کا سامنا رہتا۔ ایسا ہی کابل میں ہوتا تو قسم قسم کے حملے ہوتے اور تجربہ نے ثابت بھی کر دیا ہے سب کو معلوم ہے کہ ہمارے دو معزز دوست کابل میں شہید ہو چکے ہیں۔ انہوں نے وہاں کوئی بغاوت نہیں کی خون نہیں کیا اور کوئی سنگین جرم نہیں کیا۔ صرف یہ کہا کہ جہاد حرام ہے ۔ میں سچ کہتاہوں کہ انہوں نے اس سے زیادہ ہرگز نہیں کہا جو میں یہاں گورنمنٹ کو عیسائی مذہب کی بابت سُنا چکا ہوں۔ وہ نہایت نیک راستباز اور خاموش تھے۔ مولوی عبداللطیف صاحب تو بہت ہی کم گو۱؎ تھے۔ مگر کسی خود غرض نے جاکر امیر کابل کو کہ دیا اور انہیں ان کے خلاف بھڑکایا کہ یہ شخص جہاد کا مخالف ہے او رآپ کے عقاید کا مخالف ہے۔ اس پر وہ ایسی بے رحمی سے قتل ہوئے کہ سخت سے سخت دل بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا اور اس امر پر غور کرکے کہ وہ کیا گناہ تھا جس کے بدلہ میں وہ قتل کئے گئے بے اختیار ہر شخص کو کہنا پڑے گا کہ یہ سخت ظلم ہے جو آسمان کے نیچے ہوا ہے ۔ اب اس کے مقابلہ میں ہماری تیس سالہ کارروائی کو دیکھو ۔ بار بار پادریوں اور عیسائیوں کے مذہب پر حملہ ہوا ہے اور انہیں بتایا گیا ہے کہ تم سخت غلطی پر ہو۔ تمہاری تثلیث غلط ہے۔کفارہ باطل ہے مگر کبھی ان مسائل کی غلطیوں کے ظاہر کرنے پر اور یہ بیان کرنے پر کہ اسلام ہی سچا مذہب ہے اور یہی نجات کا ذریعہ ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی افضل الرسل ہیں اور ان کی کامل اتباع ہی سے نجات ملتی ہے ۔ کوئی وارنٹ گرفتاری کا گورنمنٹ کی