دیکھو یہ بہت بُری عادت ہے جو خصوصاً عورتوں میں پائی جاتی ہے ۔ چونکہ مرد اور کام بہت رکھتے ہیں، اس لئے ان کو شاذ و نادر ہی ایسا موقعہ ملتاہے کہ بے فکری سے بیٹھ کر آپس میں باتیں کریں اور اگر ایسا موقعہ بھی ملے تو ان کو اور بہت سی باتیں ایسی مل جاتی ہیں جو وہ بیٹھ کر کرتے ہیں ۔ لیکن عورتوں کو نہ علم ہوتاہے اور نہ کوئی ایسا کام ہوتا ہے ۔ اس لئے سارے دن کا شغل سوائے گلہ اور شکایت کے کچھ نہیں ہوتا۔ ایک شخص تھا اس نے کسی دوسرے کو گنہگار دیکھ کر خوب اس کی نکتہ چینی کی اور کہا کہ تو دوزخ میں جائے گا۔قیامت کے دن خدا تعالیٰ اس سے پوچھے گا کہ کیوں تجھ کو میرے اختیارات کس نے دیئے ہیں؟ دوزخ اور بہشت میں بھیجنے والا تو میں ہی ہوں تو کون ہے ؟ اچھا جا میں نے تجھ کو دوزخ میں ڈالا اور یہ گنہگار بندہ جس کا تو گلہ کیا کرتا تھا اور کہا کرتا تھا کہ یہ ایسا ہے ویسا ہے اور دوزخ میں جائے گا۔ اس کو میں نے بہشت میں بھیج دیا ہے ۔ سو ہر ایک انسان کو سمجھنا چاہیئے کہ ایسا نہ ہو کہ میں ہی اُلٹا شکار ہو جائوں ۔ غیبت سے بچو:۔ فرمایا: دل تو اللہ تعالیٰ کی صندوقچی ہوتاہے اور اس کی کُنجی اس کے پاس ہوتی ہے ۔ کسی کو کیا خبر کہ اس کے اندر کیا ہے ؟ تو خواہ مخواہ اپنے آپ کو گناہ میں ڈالنا کیا فائدہ؟ حدیث شریف میں آیا ہے کہ ایک شخص بڑا گنہگار ہو گا۔ خدا تعالیٰ اس کو کہے گا کہ میرے قریب ہو جا۔ یہاں تک کہ اس کے اور لوگوں کے درمیان اپنے ہاتھ سے پردہ کردے گا اور اس سے پوچھے گا کہ تونے فلاں گناہ کیا۔ فلاں گناہ کیا۔ لیکن چھوٹے چھوٹے گناہ گنائے گا۔ وہ کہے گا کہ ہاں یہ گناہ مجھ سے ہوئے ہیں۔ خدا تعالیٰ فرمائے گا کہ اچھا آ ج کے دن میں نے تیرے سب گناہ معاف کئے اور ہر ایک گناہ کے بدلے دس دس نیکیوں کا ثواب دیا۔ تب وہ بندہ سوچے گا کہ جب ان چھوٹے چھوٹے گناہوں کا دس دس نیکیوں کا ثواب ملا ہے تو بڑے بڑے گناہوں کا تو بہت ہی ثواب ملے گا۔ یہ سوچ کر وہ بندہ خود ہی اپنے بڑے بڑے گناہ گنائے گا کہ اے خدا میں نے تو یہ گناہ بھی کئے ہیں تب اللہ تعالیٰ اس کی بات سُن کر ہنسے گا اور فرمائے گا کہ دیکھو میری مہربانی کی وجہ سے یہ بندہ ایسا دلیر ہوگیا ہے کہ اپنے گناہ خود ہی بتلاتا ہے ۔ پھر اُسے حکم دے گا کہ جا بہشت کے آٹھوں دروازوں میں سے جس سے تیری طبیعت چاہے داخل ہو جا ۔ تو کیا خبر ہے کہ خدا تعالیٰ کا اس سے کیا سلوک ہے یا اس کے دل میں کیا ہے ۔ اس لئے غیبت کرنے سے بکلی پرہیز کرنا چاہیئے ۔۱؎