مذہبی آزادی پر اظہارِ تشکر:۔ سمجھنا چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ سلسلہ جو نئے طور سے قائم کیا ہے۶؎اسے قائم ہوتے ہی مصائب اور مشکلات پیدا ہوگئے اندرونی اور بیرونی طور پر طرح طرح کے دُکھ اس کو دیئے گئے۷؎؎مگر بیرونی طور پر جو دُکھ دیا گیا ہے اس پر افسوس نہیں اس لیے کہ وہ دُکھ صرف زبان کا دُکھ ہے اور اس دُکھ کے مقابلہ میں یہ کچھ چیز نہیں جو ابتدائے اسلام اور غربتِ اسلام کے وقت اُن لوگوں کو اُٹھانا پڑا جو اسلام میں داخل ہوئے ۔ وہ دُکھ اس قسم کے تھے کہ اُن کو بیان کرنے سے بھی دل کانپ جاتاہے کہ وہ کیسے سنگدل انسان تھے کہ انہوں نے صرف مسلمان ہونے پر اُن کو طرح طرح کی مشکلات اور مصائب میں ڈالا اور بہتوں کو بے دردی سے ایذائیں دیں اور قتل کر ڈالا لیکن اس زمانہ میں جو آزادی کا زمانہ ہے اس قسم کی کوئی تکلیف نہیں دے سکتے ۔ صرف زبان سے دُکھ دیتے ہیں اور یہ کچھ چیز نہیں ۔ ہم پر خدا تعالیٰ کا بڑا فضل اور احسان ہے اور ہم اس کا شکر نہیں کر سکتے کہ اُس نے محض اپنے فضل سے ایسی گورنمنٹ کے ماتحت کر دیا جس کی وجہ سے ہمارے مخالف ہمارے خلاف اپنے جوشِ مخالفت میں کامیاب نہیں ہو سکتے ۔ یہ اسی گورنمنٹ کی آزادی اور انصاف پسندی کا ہی سبب ہے کہ وہ جوش ہمارے مخالف ظاہر نہیں کر سکتے جو انہیں ہمارے لیے ہونا چاہیئے ۔ وہ دانت پیستے ہیں اور اگراُن کے اختیار میں ہوتا تو ہمیں نیست و نابود کر کے ہی خوش ہوتے ۔ مگر انہیں کوئی قابو نہیں ملتا۔ میں اس امر پر غور کرکے اور پچھلے دُکھوں کو جو ابتدائے اسلام میں مسلمانوں کو پہنچے یاد کرکے خدا تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر کرتا ہوں جس نے محض اپنے ہی فضل و کرم سے ہمیں ایسی نیک خیال گورنمنٹ عطا کی۔ وہ کیسا رحیم و کریم خدا ہے ۔ جب اس نے چاہا کہ ضعفِ اسلام کے وقت یہ سلسلہ قائم کرے خود ہی اس نے انتظام کر دیا کہ ایسی گورنمنٹ کو بھیج دیا جو امن پسند ہے ۔ میں یہ بات ریاکاری سے نہیں کہتا۔ میں یقینا جانتاہوں کہ ریاکار اور خوشامدی منافق ہوتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے ہم نفاق کو دور کرنے آئے ہیں اور واقعات ہمیں مجبور کرتے ہیں کہ اس گورنمنٹ کی تعریف کریں اور اس کیلئے اللہ تعالیٰ کے شکر گذار ہوں ۔ ہم اپنے ہی حالاتِ زندگی کو دیکھتے