ہی جاویں۔ اللہ تعالیٰ دُعا کرنے والوں کو ضائع نہیں کرتا۔۳؎جب تضرع سے دُعا کرتاہے اور مصیبت میں مبتلا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دیتاہے کہ یہ شخص بچایا جاوے اور وہ بچایا جاتاہے کیونکہ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ ( البقرۃ :۲۲۳)
یاد رکھو جو شخص مراد ہے اور ہلاک ہوا ہے وہ تھکنے سے مرا ہے۔ خد ا تعالیٰ سے مانگنا اور دُعا کرنا موت ہے ہر شخص جو خدا تعالیٰ سے مانگتا ہے ضرور پاتا ہے مگر وہ آپ ہی بدظنی کرتا ہے تب حاصل نہیں ہوتا۔ اس کے بعد آپ نے دیر تک جماعت کے لیے دعا کی ۔ ۴؎
۲۷؍دسمبر ۱۹۰۶ئ:۔
تقریر
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرمودہ ۲۷؍دسمبر ۱۹۰۶ئ بعد نماز
ظہروعصر مسجد اقصیٰ قادیان
میں۵؎نے جو کچھ کل بیان کیا تھا اس میں سے کچھ حصہ باقی رہ گیا تھا اس لیے میں نے مناسب اور ضروری سمجھا کہ اس حصہ کو بیان کردوں تاکہ وہ مکمل ہو جاوے