ظاہر ہوتی ہیں لیکن نوماہ کے بعد پانی کی مشک نکل جاتی ہے۔ ایسا ہی حال ان کشوف اور خوابوں کا ہے جب تک انسان محض خدا ہی کا نہ ہوجاوے ۔یہ کچھ بھی چیز نہیں۔ انسان کی عزت اسی میں ہے اور یہی سب سے بڑی دولت اور نعمت ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہو۔ جب وہ خداکا مقرب ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ ہزاروں برکات اس پر نازل کرتاہے زمین سے بھی اور آسمان سے بھی اس پر برکات اترتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کی بیخکنی کے لیے قریش نے کس قدر زور لگایا۔ وہ ایک قوم تھی اور آنحضرت ﷺ تن تنہا۔ مگر دیکھو! کون کامیاب ہوا۔ اور کون نامراد رہے۔
نصرت اور تائیدخدا تعالیٰ کے مقرب کا بہت بڑا نشان ہے ۔ دوسرے یہ کہ ایسا شخص خزاں کے وقت آتا ہے اور بہار ہو جاتی ہے ۔ وہ لوگ جو خدا کی طرف سے نہ ہوں اور اس قسم کی شیخیاں مارنے والے ہوں ان کی مثال ایسی ہے جیسے مردار پر بیٹھے ہوں ۴؎۔ مگر جو خدا تعالیٰ کے ساتھ ہے حی وقیوم خدا اس کے ساتھ ہے وہ خود زندہ ہے اُسے زندہ کرے گا۔ وہ اپنے وعدوں کو جو اس سے کئے ہیں سچا کر دکھائے گا ۔۱؎
میری نصیحت بار بار یہی ہے کہ جہاں تک ہو سکے اپنے نفسوں کا بار بار مطالعہ کرو۔ بدی کا چھوڑ دینا یہ بھی ایک نشان ہے اور خدا تعالیٰ ہی سے چاہو کہ وہ تمہیں توفیق دے کیونکہ خَلَقَکُمْ وَمَا تَعْلَمُوْنَ ( الصافات:۹۷) قویٰ بھی اس نے ہی پیدا کئے ہیں ۲؎
پھر میں ایک اور نقص بھی دیکھتاہوں ۔ بعض لوگ تھک جاتے ہیں۔ میرے پاس ایسے خطوط آئے ہیں جن میں لکھنے والوں نے ظاہر کیا کہ ہم چار سال یا اتنے سال تک نماز پڑھتے رہے دعائیں کرتے رہے۔ کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ایسے لوگوں کو میں مُخنَّث سمجھتاہوں تھکنا نہیں چاہیئے۔
گرنباشدبددست راہ بُردن شرطِ عشق است درطلب مردن
میں تو یہاں تک کہتا ہوں کہ تیس چالیس برس گذر جاویں تب بھی تھکے نہیں اور باز نہ آوے خواہ جذبات بڑھتے