ہمارا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ بری چیزیں ہیں یا برا طریق ہے۔ نہیں نہیں۔ اصل مطلب یہ ہے کہ بداستعمال بری ۱؎ ہے ۔ بیمار کا فرض یہ ہے کہ وہ اول علاج کرائے نہ یہ کہ علاج تو کرائے نہیں اور یہ کہے مجھے الف لیلہ کی سیر کے دو چار ورق سنا ۲؎دو ۔ اسی طرح کشوف اور رویا روحانی سیر ہیں۔ جب روحانی بیماریوں کا علاج ہو جاوے گا اور روحانی صحت درست ہوگی اس وقت سیر بھی مفید ہوگی۔ جب انسان اپنے نفس کو کھو دیتاہے اور غیر اللہ کی طرف التفات نہیں رہتی اور کسی کو اپنی نظر میں نہیں دیکھتا اور خدا ہی کو دیکھتا اور اس کو ہی سناتا ہے تو پھر خدا تعالیٰ بھی اس کو سناتا ہے مگر وہ لوگ جن کے باوجود یکہ دوکان ہوتے ہیں مگر وہ حرص‘ہوا ‘غصہ ‘کینہ وغیرہ ہر قسم کی طاقتوں کی باتیں سنتے ہیں وہ خدا تعالیٰ کی بات کیونکر سن سکتے ہیں۔ ہاں ایک قوم ہوتی ہے جو باقی سب کو ذبح کرڈالتے ہیں اور سب طرف سے کانوں کو بند کرلیتے ہیں۔ نہ کسی کی سنتے ہیں نہ کسی کو سناتے ہیں۔ انہیں ہی خدا بھی اپنی سناتا ہے اور ان کی سنتا ہے اور وہی مبارک ہوتا ہے۳؎ پس اگر اس قوم میں داخل ہونا چاہتے ہو تو ان کے نقش قدم پرچلو۔ جب تک یہ بات پیدا نہ ہو ایسی آوازوں اور خوابوں پر ناز نہ کرو۔ خصوصاً ایسی حالت میں کہ حدیث میں اضغاث احلام اور حدیث النفس کاذکر موجود ہے ۔ یہ کوئی چیز نہیں۔اس کی مثال ایسی ہے کہ ایک تو حمل حقیقی ہوتا ہے ۔ جب مدت مقررہ نو ماہ گذر جاتے ہیں تو لڑکا یالڑکی پیداہوجاتی ہے۔ ایک اس کے مقابلہ میں حمل کاذب ہوتا ہے بعض عورتیں رات دن اولاد کی خواہش کرتی رہتی ہیں جس سے رجاء کی مرض پیدا ہوجاتی ہے اور جھوٹا حمل ہو کر پیٹ پھولنے لگتا ہے اور حمل کی علامات