تمہارے اندر یہ بات ہے؟جب ذرا سا بھی ابتلاء آجاوے تو گھبرا جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ ہی کی شکایت کرنے لگتے ہیں ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کبھی مسلمان نہیں کہلا سکتے۔
میں بار بار یہی کہتاہوں کہ تمہارا اسوہ حسنہ وہی ہو جو صحابہؓ کا تھا۔ میرا کہنا تو صرف کہہ دینا ہے۔ توفیق کا عطا کرنا اللہ تعالیٰ کے فضل کی بات ہے۔ اس بات کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھو کہ تمہارے اعمال اور افعال میں اخلاص ہو۔ ریاکاری اور بناوٹ نہ ہو۔ کیونکہ تم جانتے ہو اگر کوئی شخص سونے کی بجائے پیتل لے کر بازار میں جاوے تو وہ فوراً پکڑ جاوے گا اور آخر اسے جیل میں جا کر اپنی جعلسازی کی سزا بھگتنی پڑے گی۔ پس اسی طرح پر خدا تعالیٰ کے حضور دھوکا نہیں چل سکتا۔ انسان کو دھوکا لگ سکتا ہے مگر وہاں نہیں ہوسکتا۔ جو چاہتا ہے کہ وہ خدا کا اور خدا اس کا ہو جاوے اسے چاہیئے کہ وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں ننگا ہو جاوے ۔
یہ مت سمجھو کہ میں تمہیں اس امر سے منع کرتا ہوں کہ تم تجارت نہ کرو یا زراعت اور نوکری یا دوسرے ذرائع معاش سے تمہیں روکتا ہوں ۔ ہرگز نہیں۔ میرا یہ مطلب نہیں ہے بلکہ میرا مطلب یہ ہے ؎
دل با یار دست باکار
تمہارا اسوہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کوئی تجارت اور بیع وشریٰ انہیں ذکر اللہ سے نہیں روکتا ۔ ہزاروں لاکھوں کی تجارت میں بھی وہ خدا تعالیٰ سے ایک لحظ کے لیے جدا نہیں ہوتے۔ اس لیے تمہارا فخر اور دستاویز ایسے اعمال ہونے چاہئیں جو حقیقی ایمان کے بعد پیدا ہوتے ہیں۔
سچی خواب مدار نجات نہیں:۔
میں اس امر کا افسوس سے ذکر کرتا ہوں کہ بعض لوگ میں نے دیکھتے ہیں جن کی زندگی کا بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ انہیں خواب آجاتے ہیں یا آنے چاہئیں ۔ وہ سارا زور اسی امر پر دیتے ہیں۔ میرے نزدیک یہ ابتلاء ہے جو لوگ اس وہم میں مبتلا ہیں وہ یادرکھیں ۔ اس امر سے نجات وابستہ نہیں ہے۔ کبھی یہ سوال نہیں ہوگا تجھے کتنے خواب آئے تھے۔ میں نے ایسے لوگ دیکھے ہیں جنہوں نے چوری میں سزا پائی اور جب سزا پاکر آئے اور ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ چوری کرنے گئے تھے۔ خواب میں معلوم ہوگیا تھا کہ ایساہوگا۔ بڑے بڑے بدکار جو کنجر کہلاتے ہیں انہیں بھی سچی خواب آسکتی ہے۔ یہاں ہمارے ایک چوہڑی تھی اس کو بھی خواب آجاتے تھے۔ پس تم ابتلاء میں مت پھنسو۔ خدا تعالیٰ سے اپنے تعلقات بڑھائو اور اس کو راضی کرو۔ اپنے اعمال میں ایک خوبصورتی پیدا کرو انسان کو چاہیئے کہ اس امر کا مطالعہ کرے کہ کیا قرآن شریف کے موافق میں نے اپنے اعمال کو بنالیا ہے یا نہیں؟ اگر یہ بات نہیں ہے تو خواہ اس کو ہزاروں خواب آئیں بے سود اور بے فائدہ ہیں۔ قرآن شریف میں یہی حکم ہے کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کو پورا پورا ادا کرو۔ ان میں ریا‘ خیانت ‘ شرارت باقی نہ ہو۔ وہ خالصتہً لللّٰہ ہوں۔
پس پہلے اس بات کو پیدا کرو۔ پھر اس کے ثمرات خود بخود حاصل ہوں گے۔