بات یہ ہے کہ حج ایک اعلیٰ درجہ کی چیز ہے جو کمال سلوک کا آخری مرحلہ ہے۔ سمجھنا چاہیئے کہ انسان کا اپنے نفس سے انقطاع کا یہ حق ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی کی محبت میں کھویا جاوے اور تعشق باللہ اور محبت الٰہی ایسی پیدا ہو جاوے کہ اس کے مقابلہ میں نہ اسے کسی سفر کی تکلیف ہو اور نہ جان ومال کی پروا ہو ‘نہ عزیزو اقارب سے جدائی کا فکر ہو جیسے عاشق اور محب اپنے محبوب پرجان قربان کرنے کو تیار ہوتا ہے۔ اسی طرح یہ بھی کرنے سے دریغ نہ کرے۔ اس کا نمونہ حج میں رکھا ہے۔ جیسے عاشق اپنے محبوب کے گرد طواف کرتا ہے اسی طرح حج میں بھی طواف رکھا ہے یہ ایک باریک نکتہ ہے۔ جیسا بیت اللہ ہے ایک اس سے بھی اوپر ہے۔ جب تک اس کا طواف نہ کرو یہ طواف مفید نہیں اور ثواب نہیں۔اس کاطواف کرنے والوں کی بھی یہی حالت ہونی چاہیئے جو یہاں دیکھتے ہو کہ ایک مختصر سا کپڑا رکھ لیتے ہیں۔ اسی طرح اس کا طواف کرنے والوں کو چاہیئے کہ دنیا کے کپڑے اتار کر فروتنی اور انکساری اختیار کرے اور عاشقانہ رنگ میں پھر طواف کرے۔ طواف عشق الٰہی کی نشانی ہے اور اس کے معنے یہ ہیں کہ گویا مرضات اللہ ہی کے گرد طواف کرنا چاہیئے اور کوئی غرض باقی نہیں۔
زکوٰۃ :۔
اسی طرح پر زکوٰۃ ہے۔ بہت سے لوگ زکوٰۃ دے دیتے ہیں ۔ مگر وہ اتنا بھی نہیں سوچتے اور سمجھتے کہ یہ کس کی زکوٰۃ ہے ۔ اگر کتے کو ذبح کردیا جاوے یا سور کو ذبح کر ڈالو تو وہ صرف ذبح کرنے سے حلال نہیں ہوجائے گا۔ زکوٰۃ تزکیہ سے نکلی ہے ۔ مال کو پاک کرو اور پھر اس میں سے زکوٰۃ دو۔ جو اس میں سے دیتا ہے اس کا صدق قائم ہے لیکن جو حلال حرام کی تمیز نہیں کرتا وہ اس کے اصل مفہوم سے دور پڑا ہوا ہے۔ اس قسم کی غلطیوں سے دست بردار ہونا چاہیئے اور ان ارکان کی حقیقت کو بخوبی سمجھ لینا چاہیئے تب یہ ارکان نجات دیتے ہیں ورنہ نہیں اور انسان کہیں کا کہیں چلا جاتا ہے ۔ یقینا سمجھو کہ فخر کرنے کی کوئی چیز نہیں ۱؎ ہے اور خدا تعالیٰ کا کوئی انفسی یا آفاقی شریک نہ ٹھہرائو اور اعمال صالحہ بجالائو۔ مال سے محبت نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَنْ تَنَالُواالْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ (اٰل عمران:۹۳) یعنی تم بر تک نہیں پہنچ سکتے جب تک وہ مال خرچ نہ کرو جس کو تم عزیز رکھتے ہو ۔ آنحضرت ﷺ کے زمانہ کو اپنا اسوہ بنائو اور دیکھو کہ وہ زمانہ تھا جب صحابہؓ نے نہ اپنی جان کو عزیز سمجھا نہ اولاد اور بیویوں کو۔ بلکہ ہر ایک ان میں سے اس بات کا حریص تھا کہ آنحضرت ﷺ کے قدموں میں شہید ہوجائوں۔ تم حلفاً بیان کرو کیا