رحم کا اُمید وار ہو سکتا ہے لیکن جب عذاب نازل ہوگیا۔ پھر توبہ کا دروازہ بند ہوگا۔ اس وقت جو امن کی حالت ہے توبہ کرو اور اصلاح کے لیے قدم بڑھائو۔ میری باتوں کو اس طرح مت سنو۔ جس طرح پر لڑکے کہانیاں سنا کرتے ہیں اٹھو اور تبدیلیاں کرو۔ جب مصیبت آگئی پھر خواہ کوئی ہزار کہے کہ دعا کرو کچھ فائدہ نہ ہوگا کیونکہ عذاب تو آچکا ۔ ہاں اب وقت ہے۔ اصلاح کے ذرائع :۔ تبدیلی اور اصلاح کس طرح ہو؟اس کا جواب وہی ہے کہ نماز سے جو اصل دعا ہے۔ قرآن شریف پر تدبر کرواس میں سب کچھ ہے۔ نیکیوں اور بدیوں کی تفصیل ہے اور آئندہ زمانہ کی خبریں ہیں وغیرہ ۔ بخوبی سمجھ لو کہ یہ وہ مذہب پیش کرتا ہے جس پر کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا کیوں کہ اس کے برکات اور ثمرات تازہ بہ تازہ ملتے ہیں۔ انجیل میں مذہب کو کامل طور پر بیان نہیں کیا گیا۔ اس کی تعلیم اس زمانہ کے حسب حال ہو توہو۔ لیکن وہ ہمیشہ اور ہر حالت کے موافق ہرگز نہیں۔ یہ فخر قرآن مجید ہی کو ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں ہرمرض کا علاج بتایا ہے اور تمام قویٰ کی تربیت فرمائی ہے اور جو بدی ظاہر کی ہے اس کے دور کرنے کا طریق بھی بتایا ہے اس لیے قرآن مجید کی تلاوت کرتے رہو اور دعا کرتے رہو اور اپنے چال چلن کو اس کی تعلیم کے ماتحت رکھنے کی کوشش کرو۔ روزہ :۔ پھر تیسری بات جو اسلام کا رکن ہے وہ روزہ ہے۔ روزہ کی حقیقت سے بھی لوگ ناواقف ہیں۔ اصل یہ ہے کہ جس ملک میں انسان جاتا نہیں اورج س عالم سے واقف نہیں اس کے حالات کیا بیان کرے۔ روزہ اتنا ہی نہیں کہ اس میں انسان بھوکا پیاسا رہتا ہے بلکہ اس کی ایک حقیقت اور اس کا اثر ہے جو تجربہ سے معلوم ہوتا ہے۔ انسانی فطرت میں ہے کہ جس قدر کم کھاتا ہے اسی قدر تزکیہ نفس ہوتا ہے اور کشفی قوتیں بڑھتی ہیں۔ خدا تعالیٰ کا منشااس سے یہ ہے کہ ایک غذا کو کم کرو اور دوسری کو بڑھائو۔ ہمیشہ روزہ دار کو یہ مدنظر رکھنا چاہیئے کہ اس سے اتنا ہی مطلب نہیں ہے کہ بھوکا رہے بلکہ اسے چاہیئے کہ خدا تعالیٰ کے ذکر میں مصروف رہے تاکہ تبتّل اور انقطاع حاصل ہو۔ پس روزے سے یہی مطلب ہے کہ انسان ایک روٹی کو چھوڑ کر جو صرف جسم کی پرورش کرتی ہے دوسری روٹی کو حاصل کرے جو روح کی تسلی اور سیری کا باعث ہے اورجو لوگ محض خد ا کے لیے روزے رکھتے ہیں اور نرے رسم کے طور پر نہیں رکھتے انہیں چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ کی حمد اور تسبیح اور تہلیل میں لگے رہیں جس سے دوسری غذا انہیں مل جاوے۔ حج:۔ایسا ہی حج بھی ہے۔ حج سے صرف اتنا ہی مطلب نہیں کہ ایک شخص گھر سے نکلے اور سمندر چیر کر چلاجاوے اور رسمی طور پر کچھ لفظ منہ سے بول کر ایک رسم ادا کر کے چلا آوے۔ اصل