وہ اس میں ثابت قدمی دکھاتا ہے تو دوسری حالت یہ ہے کہ اس دوزخ کو جنت سے بدل دیا جاتا ہے۔جیسے کہ بخاری میں حدیث ہے کہ مومن بذریعہ نوافل کے اﷲ تعالیٰ سے یہاں تا کہ قرب حاصل کرتا ہے کہ وہ اس کی آنکھ ہو جاتا ہے جس سے وہ دیکھتا ہے۔اور کان ہو جاتا ہے جس سے وہ سنتا ہے۔اور ہاتھ ہو جاتا ہے جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کے پائوں ہو جاتا ہے جس سے وہ چلتا ہے۔اور ایک روایت میں ہے کہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مٰں اس کی زبان ہو جاتا ہوں جس سے وہ بولتاہے اور ایسے لوگوں کے لیے اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ من عادی لی ولیا فقد اذنتہ بالحرب کہ جو شخص میرے ولی کی عداوت کرتا ہے وہ جنگ کے لیے تیار ہو جاوے۔اس قدر غیرت خدا تعالیٰ کو اپنے بندے کے لیے ہوتی ہے۔پھر دوسری جگہ فرماتا ہے کہ مجھے کسی شئے میں اس قدر تر دد نہیں ہوتا جس قدر کہ مومن کی جان لینے میں ہوت اہے اور اسی لیے وہ کئی دفعہ بیمار ہوتا ہے اور پھر اچھا ہو جاتا ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ اﷲ تعالیٰ اس کی جان لینا چاہت اہے مگر اسے مہلت دے دیتا ہے کہ اور کچھ عرصہ دنیا میں رہ لیوے۔ جماعت احمدیہ کے قیام کی غرض اس جماعت کو تیار کرنے سے غرض یہی ہے کہ زبان،کان، آنکھ اور ہر ایک عضو میں تقویٰ سرایت کر جاوے۔تقویٰ کا نور اس کے اندر اور باہر ہو۔اخلاقِ حسنہ کا اعلیٰ نمونہ ہو۔اور بیجا غصہ اور غضب وغیرہ بالکل نہ ہو۔میں نے دیکھا ہے کہ جماعت کے اکثر لوگوں میں غصہ کا نقص اب تک موجود ہے۔تھوڑی تھوڑی سے بات پر کینہ اور بُغض پیدا ہو جاتا ہے اور آپس میں لڑ جھگڑ پڑتے ہیں۔ایسے لوگوں کا جماعت میں سے کچھ حصہ نہیں ہوتا۔اور میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس میں کیا دقت پیش آتی ہے کہ اگر کوئی گالی دے تو دوسرا چُپ کر رہے۔اور اس کا جواب نہ دے۔ہر ایک جماعت کی اصلاح اول اخلاق سے شروع ہوا کرتی ہے۔چاہیے کہ ابتدا میں صبر سے تربیت میں ترقی کرے اور سب سے عمدہ ترکیب یہ ہے کہ اگر کوئی بدگوئی کرے تو اس کے لیے درد دل سے دعا کرے کہ اﷲ تعالیٰ اس کی اصلاح کر دیوے۔اور دل میں کینہ کو ہرگز نہ بڑھاوے۔جیسے دنیا کے قانون ہیں ویسے خدا کا بھی قانون ہے جب دنیا اپنے قانون کو نہیں چھوڑ تی تو اﷲ تعالیٰ اپنے قانون کو کیسے چھوڑے۔پس جب تک تبدیلی نہ ہوگی تب تک تمہاری قدر اس کے نزدیک کچھ نہیں۔خدا تعالیٰ ہرگز پسند نہیں کرتا کہ حلم اور صبر اور عفو جو کہ عمدہ صفات ہیں ان کی جگہ درندگی ہو۔اگر تم ان صفاتِ حسنہ میں ترقی کروگے تو بہت جلد خدا تک پہنچ جائو گے۔لیکن مجھے افسوس ہے کہ جماعت کا ایک حصہ ابھی تک ان اخلاق میں کمزور ہے۔ان باتوں سے صرف شماتتِ اعداء ہی نہیں بلکہ ایسے لوگ خود بھی قرب کے مقام سے گرائے جاتے ہیں۔