ہیں۔
جیسے کسی کا لڑکا مر گیا تو شکایت کرتا ہے، میں نے تو بیعت کی تھی یہ صدمہ مجھے کیوں ہوا؟ اس نادان کو یہ خیال نہیں آتا کہ آنحضرت ﷺ باوجود کہ پیغمبر تھے،مگر آپؐ کے گیارہ بچے فوت ہو گئے اور کبھی شکایت نہ کی کہ خداوند ا تو نے مجھے پیغمبر بنایا تھا میرے بچے کیو ں مار دیئے۔
غرضکہ یاد رکھو کہ دین کو دنیا سے ہرگز نہ ملانا چاہیے اور بیعت اس نیت سے ہرگز نہ کرنی چاہیے کہ میں بادشاہ ہی بن جائوں گا یا ایسی کیمیا حاصل ہو جاوے گی کہ گھر بیٹھے روپیہ بنتا رہے گا۔اﷲ تعالیٰ نے ہمیں تو اس لیے مامور کیا ہے کہ ان باتوں کو لوگوں سے چھُڑادیویں۔ہاں یہ بات ضرور ہے کہ جو لوگ صدق اور وفا سے خدا تعالیٰ کی طرف آتے ہیں اور اس کے لیے ہر ایک دکھ اور مصیبت کو سر پر لیتے ہیں تو خدا تعالیٰ ان کو اور ان کی اولاد کو ہرگز ضائع نہیں کرتا۔حضرت دائود علیہ السلام کہتے ہیں کہ میں بوڑھا ہو گیا ،لیکن کبھی نہیں دیکھاکہ صالح آدمی کی اولاد ضائع ہوئی ہو۔خدا تعالیٰ خود اس کا متکفل ہوتا ہے۔لیکن ابتدا میں ابتلا کا آنا ضروری ہے تا کہ کھوٹے اور کھرے کی شناخت ہو جائے۔
عشق اول سر کش و خونی بود۔ تا گریز دہر کہ بیدرونی بود
دوسرے ابتلا اس لیے ہوت اہے کہ اﷲ تعالیٰ لوگوں کو دکھلاوے کہ جو ہماری طرف آنیوالے ہیں وہ کیسے مستقل مزاج اور جفاکش ہوتے ہیں کہ مار پر مار کھاتے ہیں ،لیکن منہ نہیں پھیرتے او ر جب وہ ثابت قدم نکل آتے ہیں تو پھر اﷲ تعالیٰ اُن سے وہی سنت برتتا ہے جو کہ منعم علیہ گروہ سے برتنی چاہیے۔
خدا تعالیٰ سے زیادہ پیاراور رحم اور محبت کرنی کوئی نہیں جانتا۔لیکن اخلاص ضروری ہے۔کوئی دل سے اس کا ہو۔پھر دیکھے کہ آیا مخلص کی دست گیری اور کفالت اس کی خوبی ہے کیہ نہیں ،لیکن جو اُسے آزماتا ہے وہ خود آزمایا جاتا ہے۔آنحضرت ﷺ کے پاس ایک شخص آیا اور اسلام لایا۔بعد ازاں اندھا ہو گیا ارو کہنے لگا کہ اسلام قبول کرنے سے یہ آفت مجھ پر آئی ہے۔اس لیے کافر ہو گیا۔آنحضرت ﷺ نے اُسے بہت سمجھایا ،لیکن نہ مانا؛ حالانکہ اگر وہ مسلمان رہتا تو خدا تعالیٰ تو اس امر پر قادر تھا کہ اسے دوبارہ بینائی بخش دیتا،لیکن کافر ہو کر دنیا سے تو اندھا تھا دین سے بھی اندھا بن گیا۔مجھے فکر ہے کہ بہت سے ایسے لوگ ہین جو کہ خد اتعالیٰ کو آزماتے ہیں۔ایسا نہ ہو کہ وہ خود آزمائے جاویں۔پیغمبر خدا ﷺ فرماتے ہیں کہ جو مجھ پر ایمان لاوے ،اول وہ مصائب کے لیے تیار رہے۔مگر یہ سب کچھ اوائل میں ہوتا ہے۔اگر صبر کرے تو اﷲ تعالیٰ اس پر فضل کر دیت اہے؛کیونکہ مومن کے لیے دو حالتیں ہیں۔اول تو یہ کہ جب ایمان لاتا ہے تو مصائب ک ایاک دوزخ اس کے لیے تیار کیا جاتا ہے جس میں اُسے کچھ عرصہ رہنا پڑتا ہے اور اس کے صبر اور استقلال کا امتحان کیا جاتا ہے اور جب