دھوپ سے روشن ہوئی تو اُس نے آفتاب کو کہا کہ میں بھی تیری طرح روشن ہوں۔آفتاب نے کاہ کہ رات کو جب میں نہ ہوں گا تو پھر تو کہاں سے روشنی لے گی؟ اسی طرح انسان کو جو روشنی عطا ہوتی ہے،وہ بھی مستقل نہیں ہوتی،بلکہ عارضی ہوتی ہے اور ہمیشہ اُسے اپنے ساتھ رکھنے کے لیے استغفار کی ضرورت ہے۔انبیاء جو استغفار کرتے ہیں اس کی بھی یہی وجہ ہوتی ہے کہ وہ ان باتوں سے آگاہ ہوتے ہیں اور ان کو خطرہ لگا رہتا ہے کہ نور کی چادر جو ہمیں عطا کی گئی ہے ایسا نہ ہو کہ وہ چھن جاوے۔ استغفار کی حقیقت نادان لوگ لا علمی کی وجہ سے یہ کہتے اور فخر کرتے ہیں کہ مسیح استغفار نہ کرتا تھا؛ حالانکہ یہ بات کسی قسم کے ناز کی نہیں بلکہ رونے اور افسوس کرنے کی ہے۔اگر وہ استغفار نہ کرتا تو گویا اس نور سے بالکل محرورم تھا جو کہ اﷲ تعالیٰ اپنے برگزیدوں کو عطا کیا کرتا ہے۔کوئی نبی جس قدر زیادہ استغفار کرنیوالا ثابت ہو گا اسی قدس اس کا درجہ بڑا اور بلند ہو گا،لیکن جس کو یہ حالت حاصل نہیں تو وہ خطرہ میں ہے اور ممکن ہے کہ کسی وقت اس سے وہ چادر حفاظت کی چھین لی جاوے،کیونکہ نبیوں کو بھی وہ مستعار طور پر ملتی ہے اور وہ پھر استغفار کے ذریعہ اسے مدامی طور پر رکھتے ہیں۔بات یہ ہے کہ اصل انوار تو اﷲ تعالیٰ کے پاس ہیں اور نبی ہو یا کوئی اور ،سب خدا تعالیٰ سے انہیں حاصل کرتے ہیں۔سچے نبی کی یہی علامت ہے کہ وہ اس روشنی کی حفاظت بذریعہ استغفار کے کرے۔استغفار کے یہی معنی ہوتے ہیں کہ موجودہ نور جو خد اتعالیٰ سے حاصل ہوا ہے وہ محفوظ رہے اور زیادہ اور ملے ۔اسی کی تحصیل کے لئے پنجگانہ نماز بھی ہے تا کہ ہر روز دل کھول کھول کر اس روشنی کو خدا تعالیٰ سے مانگ لیوے جسے بصیرت ہے وہ جانتا ہے کہ نماز ایک معراج ہے اور وہ نماز ہی کی تضرع اور ابتہال سے بھری ہوئی دعا ہے جس سے یہ امراض سے رہائی پاسکتا ہے۔وہ لوگ بہت بیوقوف ہیں جو دوری ڈالنے والی تاریکی کا علاج نہیں کرتے۔ بیعت کی غرض میرے پاس اکثر خطوط آتے ہیں،مگر اس میں یہی لکھ اہوتا ہے کہ میرے املاک کے لیے یا اولاد کے لیے دعا ہو۔لاں مقدمہ ہے یا فلاں مرض ہے وہ اچھا ہو جاوے ،لیکن مشکل سے کوئی خط ایسا ہوتا ہے جس میں ایمان یا ان تاریکیوں کے دور ہونے کے لیے درخواست کی گئی ہو۔بعض خطوط میں یہ لکھ اہوتا ہے کہ اگر مجھے پانسو روپیہ مل جاوے تو میں بیعت کر لوں ۔بیوقوفوں کو اتنا خیال نہیں کہ جن باتوں کو ہم چھوڑانا چاہتے ہیں۔وہی ہم سے طلب کی جاتی ہیں۔اسی لیے میں اکثر لوگوں کی بیعت سے خوف کرتا ہوں، کیونکہ سچی بیعت کرنے والے بہت کم ہوتے ہیں۔بعض تو ظاہری شروط لگاتے ہیں جیسے کہ اوپر ذکر ہوا۔اور بعض لوگ بعد بیعت کے ابتلا میں پڑ جاتے