اﷲ تعالیٰ کی معرفت طلب کرو بہت ہیں کہ زبان سے تو خد اتعالیٰ کا اقرار کرتے ہیں،لیکن اگر ٹٹول کر دیکھو تو معلوم ہو گا کہ ان کے اندر دہریت ہے۔کیونکہ دنیا کے کاموں میں جب مصروف ہوتے ہیں تو خدا تعالٰٰ کے قہر اور اس کی عظمت کو بالکل بھول جاتے ہیں۔اس لیے یہ بات بہت ضروری ہیکہ تم لوگ دعا کے ذریعہ اﷲ تعالٰٰ سے معرفت طلب کرو۔بغیر اس کے یقین کامل ہرگز حاصل نہیں ہو سکتا۔وہ اس وقت حاصل ہوگا جبکہ یہ علم ہو کہ اﷲ تعالیٰ سے قطع تعلق کرنے میں ایک موت ہے۔گناہ سے بچنے کے لیے جہاں دعا کرو وہاں ساتھ ہی تدابیر کے سلسلہ کو ہاتھ سے نہ چھوڑو اور تمام محفلیں اور مجلسیں جن میںشامل ہونے سے گناہ کی تحریک ہوتی ہے ان کو ترک کرو اور ساتھ ہی دعا بھی کرتے رہو۔اور خوب جان لو کہ ان آفات سے جو قضاء و قدر کی طرف سے انسان کے ساتھ پیدا ہوتی ہیں۔جبتک خدا تعالیٰ کی مدد ساتھ نہ ہو۔ہرگز رہائی نہیں ہوتی۔نماز جو کہ پانچ وقت ادا کی جاتی ہے اس میں بھی یہی اشارہ ہے کہ اگر وہ نفسانی جذبات اور خیالات سے اُسے محفوظ نہ رکھے گا تب تک وہ سچی نماز ہرگز نہ ہوگی۔نماز کے معنی ٹکریں مارلینے اور رسم اور عادت کے طور پر ادا کرنے کے ہرگز نہیں۔ہماز وہشئے ہے جسے دل بھی محسوس کرے کہ روح بگھل کر خوفناک حالت میں آستانۂ الُوہیت پر گِر پڑے۔جہانتک طاقت ہے وہاں تک رقت کے پیدا کرنے کی کوشش کرے اور تضرع سے مانگے کہ شوخی اور گناہ جو اندر نفس میں ہیں وہ دور ہوں۔اسی قسم کی نماز بابرکت ہوتی ہے اور اگر وہ اس پر استقامت اختیار کرے گا تو دیکھے گا کہ رات کو یادن کو ایک نور اس کے قلب پر گرا ہے اور نفسِ امارہ کی شوخی کم ہو گئی ہے۔جیسے اژدہا میں ایک سِمّ قاتل ہے۔اسی طرح نفس امارہ میں بھی سم قاتل ہوت اہے اور جس نے اُسے پید اکیا۔اُسی کے پاس اُس کا علاج ہے۔ کبھی یہ دعویٰ نہ کرو کہ میں پاک صاف ہوں جیسے کہ اﷲ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے فلا تزکو اانفسکم (النجم : ۳۳) کہ تم اپنے آپ کو مُزَکیّٰ مت کہو۔وہ خود جانتا ہے کہ تم میں سے متقی کون ہے۔جب انسان کے نفس کا تزکیہ ہو جاتا ہے تو خد اتعالیٰ اُس کا متولی او متکفل ہو جاتا ہے۔اور جیسے ماں بچے کو گود میں پرورش کرتی ہے اسی طرح وہ خدا کی گود میں پرورش پاتا ہے اور یہ حالت ہے کہ خدا تعالیٰ کا نور اس کے دل پر گر کر کل دنیاوی اثروں کو جلا دیتا ہے اور انسان ایک تبدیلی اپنے اندر محسوس کرتا ہے،لیکن ایسی حالت میں بھی اُسے ہرگز مطمئن نہ ہونا چاہیے کہ اب یہ طاقت مجھ میں مستقل طور پر پیدا ہوگئی ہے اور کبھی ضائع نہ ہوگی۔جیسے دیوار پر دھوپ ہو تو اس کے یہ معنی ہرگز نہیں ہوتے کہ یہ ہمیشہ ایسی ہی روشن رہے گی۔اس پر لوگوں نے ایک مثال لکھی ہے کہ دیوار جب