تمام گناہوں سے بچنے کا ذریعہ خوفِ الٰہی ہے
دیکھو! یاد رکھنے کا مقام ہے کہ بیعت کے چند الفاظ جو زبان سے کہتے ہو کہ میں گناہ سے پرہیز کروں گا۔یہی تمہارے لیے کافی نہیں ہیں اور نہ صرف ان کی تکرار سے خدا راضی ہوتا ہے بلکہ خدا تعالیٰ کے نزدیک تمہاری اس وقت قدر ہوگی جبکہ دلوں میں تبدیلی ارو خدا تعالیٰ کا خوف ہو؛ ورنہ ادھر بیعت کی اور جب گھر میں گئے تو وہی برے خیالات اور حالات رہے تو اس سے کای فائدہ؟ یقینا مان لو کہ تمام گناہوں سے بچنے کے لیے بڑا ذریعہ خوفِ الٰہی ہے۔اگر یہ نہیں ہے تو ہرگز ممکن نہیں کہ انسان اُن سب گناہوں سے بچ سکے جو کہ اسے مصری پر چیونٹیوں کی طرح چمٹے ہوئے ہیں۔مگر خوف ہی ایک ایسی شئے ہے کہ حیوانات کو بھی جب ہو تو وہ کسی کا نقصان نہیں کرسکتے۔مثلاً بلی جو کہ دودھ کی بری حریص ہے۔جب اُسے معلوم ہو کہ اُس کے نزدیک جانے سے سزا ملتی ہے پرندوں کوجب علم ہو کہ اگر یہ دانہ کھایا توجال میں پھنسے اور موت آئی،تو وہ اس دودھ اور دانہ کے نزدیک نہیں پھٹکتے۔اس کی وجہ صرف خوف ہے۔پس جبکہ لا یعقل حیوان بھی خوف کے ہوتے ہوئے پرہیز کرتے ہیں تو انسان جو عقلمند ہے،اُسے کس قدر خوف اور پرہیز کرنا چاہیے۔یہ امر بہت ہی بدیہی ہے کہ جس موقعہ پر انسان کو خوف پیدا ہوتا ہے اس موقعہ پر وہ جرم کی جرأت ہرگز نہیں کرتا۔مثلاً طاعون زدہ گائوں میں اگ کسی کو جانے کو کہا جاوے،تو کوئی بھی جرأت کرکے نہیں جاتاحتیٰ کہ اگر حکام بھی حکم دیویں تو بھی ترساں اور لرزاں جائیگا اور دل پر یہ ڈر غالب ہوگ اکہ کہیں مجھ کو بھی طاعون نہ ہو جاوے اور وہ کوشش کرے گا کہ مفوضہ کام کا جلد پورا کرکے وہاں سے بھاگے۔پس گناہ پر دلیری کی وجہ بھی خدا کے خوف کا دلوں میں موجود نہ ہونا ہے۔لیکن یہ خوف کیونکر پید اہو۔اس کے لیے معرفت الٰہی کی ضرورت ہے۔جس قدر خدا تعالیٰ کی معرفت زیادہ ہوگی اسی قدر خوف زیادہ ہوگا ؎
ہر کہ عارف تر است ترساں تر
اس امر میں اصل معرفت ہے اور اس کا نتیجہ خوف ہے۔معرفت ایک ایسی شئے ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے انسان ادنیٰ ادنیٰ کیڑوں سے بھی ڈرتا ہے۔جیسے پسو اور مچھر کی جب معرف ت ہوتی ہے تو ہر ایک اُن سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔پس کیاوجہ ہے کہ خد اجو قادرِ مطلق اور علیم اور بصیر ہے اور زمینوں اور آسمانوں کا مالک ہے،اس کے احکام کے برخلاف کرنے میں یہ اس قدر جرأت کرتا ہے۔اگر سوچ کر دیکھو گے تو معلو م ہوگاکہ معرفت نہیں۔