سونے چاندی او ریشم کا استعمال عرض کی گئی کہ چاندی وغیرہ کے بٹن استعمال کئے جاویں؟ فرمایا کہ : ۳-۴ ماشہ تک کوئی حرج نہیں،لیکن زیادہ کا استعمال منع ہے۔اصل میں سونا چاندی عورتوں کی زینت کے لیے جائز رکھا ہے۔ہاں علاج کے طور پر ان کا استعمال منع نہیں۔جیسے کسی شخص کو کوئی عارضہ ہو اور چاندی سوین کے برتن میں کھنا طبیب بتلاوے تو بطور علاج کے صحت تک وہ استعمال کرسکتا ہے۔ ایک شخص آنحضرت کے پاس آیا۔اُسے جوئیں بہت پڑی ہوئی تھیں۔آپؐ نے حکم دیا کہ تو ریشم کا کرتہ پہنا کر اس سے جوئیں نہیں پڑتیں۔(ایسے ہی خارش والے کے لیے ریشم کا لباس مفید ہے)۔ سود سود کی بابت پوچھا گیا کہ بعض مجبوریاں لاحق ہو جاتی ہیں۔ فرمایا کہ : اس کا فتویٰ ہم نہیں دے سکتے۔یہ بہر حال ناجائز ہے۔ایک طرح کا سود اسلام میں جائز ہے کہ قرض دیتے وقت کوئی شرط وغیرہ کسی قسم کی نہ ہو اور مقروض جب قرضہ ادا کرے۔تو مروت کے طور پر اپنی طرف سے کچھ زیادہ دے دیوے۔آنحضرت ﷺ ایسا ہی کیاکرتے ۔اگر دس روپے قرض لیے تو ادائیگی کے وقت ایک سو تک دے دیا کرتے سو د حرام وہی ہے جس میں عہد معاہدہ اور شرائط اول ہی کر لی جاویں۔؎ٰ ۲۱؍اگست ۱۹۰۴ء؁ بمقام لاہور :- احاطہ میاں چراغ دین و سراج دین رئیسانِ لاہور۔ ظُہر کے وقت حصرت اقدس تشریف لائے اور نماز باجماعت ادا کرنے کے بعد احباب کی درخواست پر آپ ایک کرسی پر رونق افروز ہویء۔میاں فیروزالدین صاحب نے آگے بڑھ کر نیاز حاصل کی۔حضرت اقدس نے چند نصائح فرماتے ہوئے تقریر کا سلسلہ یوں شروع کیا :