پر ہی حاصل ہوئے ہیں۔آنحضرت ﷺ پر خد اتعالیٰ کا بڑا فضل و احسان تھا کہ آپؐ کو دونوں موقع عطا کیے۔ہر ایک نبی کا یہ کام نہیں کہوہ ہر ایک رتبہ کے لوگوں کو ایک کامل نمونہ اخلاق کا پیش کرسکے۔فقیر ،غریب اور امری وغیرہ ہر ایک اس کے چشمہ سے مساوی سیراب ہوں۔یہ صرف آنحضرت ﷺ کی ہی ذات سے ہے۔جس نے کُل ضرورتوں کو پورا کرکے دکھایا۔
تعلیم کے ساتھ اُسوَہ کی ضرورت
فرقہ چکڑالوی نے بھی یہاں ہی ٹھوکر کھائی ہے۔اس نے یہ نہیں سمجھا کہ بغیر نمونہ کے دوسرا انسان اتباع کیسے پوری کر سکتا ہے۔
ان کنتم تحبون اﷲ فاتبعونی (آل عمران : ۳۲)
کہہ کر آنحضرت ﷺ نے ہر ایک طبقہ کے انسان کو مخاطب کیا ہے کہ ہر ایک قسم کا سبق مجھ سے لو۔اور ظاہر ہے کہ جبتک ایک اُسوہ سمانے نہ ہو، انسان عملدرآمد سے قاصر رہتا ہے۔ہر ایک قسم کے کمال کے حضول کے لیے نمونہ کی ضرورت ہے۔انسانی طبائع اسی قسم کی واقع ہوئی ہیں کہ وہ صرف قول سے متأثر نہیں ہوتیں جب تک اس کے ساتھ فعل نہ ہو۔اگر صرف قول ہو تو صدہا اعتراض لوگ کرتے ہیں۔دین کی باتوں کو سنکر کہا کرتے ہیںکہ یہ سب باتیں کہنے کی ہیں کون ان کو بجا لا سکتا ہے۔یونہی بنا چھوڑی ہیں۔اور ان اعتراضوں کا رد نہیں ہوسکتا جبتک ایک انسان عمل کرکے دکھانے والا نہ ہو۔
دعا کے آداب
دعا کے لیے انسان کو اپنے خیال اور دل کو ٹٹولنا چاہیے کہ آیا اس کا میلان دنای کی طرف ہے یا دین کی طرف یعنی کثرت سے وہ دعائیں دنیاوی آسائش کے لیے ہیں یا دین کی خدمت کے لیے۔پس اگر معلومہو کہ اُٹھتے بیٹھتے اور لیٹتے ہوئے اسے دنیاوی افکار ہی لاحق ہیں اور دین مقصود نہیں تو اسے اپنی حالت پر رونا چاہیے۔بہت دفعہ دیکھا گیا ہیکہ لوگ کمر باندھ کر حصول دنیا کے لیے مجاہدے او ریاضتیں کرتے ہیں۔دعائیں بھی مانگتے ہیں۔نتیجہ یہ ہوت اہے کہ طرح طرح کے امراض لاحق ہو جاتے ہیں۔بعض مجنون ہو جاتے ہیں۔لیکن سب کچھ دین کے لیے ہو تو خدا تعالیٰ ان کو کبھی ضائع نہ کرے۔قول اور عمل کی مثال دانہ کی ہے۔اگر کسی کو ایک دانہ دیا جاوے اور وہ اسے لے جاکر رکھ چھوڑے اور استعمال نہ کرے تو آخر اُسے پڑے پڑے گھن لگ جاوے گا۔ایسے ہی اگر قول ہو اور اس پر عمل نہ ہو تو آہستہ آہستہ وہ قول بھی نہ رہے گا۔اس لیے اعمال کی طرف سبقت کرنی چاہیے۔؎ٰ