غربت ایک کیمیا ہے
پس غریبوں کو ہرگز بے دل نہ ہونا چاہیے۔ان کا قدم آگے ہی ہے،لیکن وہ کوشش کریں کہ تھوڑی بہت جو کسر ہے وہ نکال دیویں کیونکہ بعض وقت ان لوگون سے غریبی میں بھی بڑے بڑے گناہ صادر ہو جاتے ہیں۔صبر نہیں کرتے خد اتعالیٰ کو گالیاں دینے لگ جاتے ہیں۔معاش کی قلت ہو تو چوری،ڈاکہ اور دوسرے جراتم شروع کر دیتے ہیں۔ایسی حالتوں میں صبر کرنا چاہیے اور خدا تعالیٰ کی نافرمانی کی طرف ہرگز مائل نہ ہونا چاہیے۔غُربت اور کم رزتی دراصل انسان کو انسان بنانے کے لیے بڑی کیمیا ہے؛ بشرطیکہ اس کے ساتھ اور قصور نہ ہوں۔جیسے مالداروں میں تکبر اور نخوت وغریہ پید اہو کر ان کے اعمال کو تباہ کر دیتے ہیں ویسے ہی ان میں بے صبری موجبِ ہلاکت ہوتی ہے۔اگر غریب لوگ صبر سے کام لیں تو ان کو وہ حاصل ہو جو اور لوگوں کو مجاہدہ سے حاصل نہیں ہوسکتا۔خدا تعالیٰ نے اصل میں بڑا احسان کیا ہے کہ انبیاء کے ساتھ غریبی کا حصہ بھی رکھ دیا ہے۔آنحضرت ﷺ بکریاں چرایا کرتے تھے۔موسیٰ ؑنے بکریاں چرائیں۔کیا امراء یہ کام کر سکتے ہیں۔ہرگز نہیں۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ آنحضرت ﷺ کا گذرایک جنگل میں ہوا۔وہاں کچھ پھل دار درخت کا پھل کھائو بہت شیریں ہے۔صحابہؓ نے پوچھا کہ یا حضرت آپ کو کیسے علم ہے؟ فرمایا کہ جب میں بکریاں چرایا کرتا تھا تو اس جنگل میں بھی آیا کرتا اور ان پھلوں کو کھایا کرتا تھا۔اسی لیے اﷲ تعالیٰ نے یہ تجویز نہیں کیا کہ انبیاء شاہی خاندان سے ہوں؛ ورنہ تکبر اور نخوت کا کچھ نہ کچھ حصہ ان میں ضرور رہ جاتا۔او رپھر نبوت کے بھی دو حصے کر دیئے۔ایک مصائب اور شدائد کا اور دوسرا فتح و نصرت کا۔انبیاء کی زندگی کے ان دو حصوں میں بھی الٰہی حکمت تھی۔ایک تو یہی تھی کہ ان کے اخلاق میں ترقی ہو۔اور سچی بات یہی ہے کہ جوں جوں نبوت کا زمانہ گذرتا ہے اورواقعات اور حادثات کی صورت بدلتی جاتی ہے انبیاء کی اخلاقی حالت بھی ترقی کرتی جاتی ہے۔ابتداء میں ممکن ہے کہ غصہ وغیرہ زیادہ ہو۔ا س لیے نبی کی زندگی کا آخری حصہ بہ نسبت پہلے کے بلحاظ اخلاق کے بہت ترقی یافتہ ہوت اہے۔اس سے یہ مراد ہرگز نہیں ہے کہ ابتداء میں ان کے اخلاق عام لوگوں سے ترقی یافتہ نہیں ہوتے بلکہ یہ امر ہے کہ اپنے دائرہ نبوت میں وہ آخری حصہ عمر میں بہت مؤدب ہوتے ہیں؛ ورنہ ان کی ابتدائی زندگی کا حصہ بھی اخلاق میں توکُل لوگوں سے اعلیٰ درجہ کا ہوتا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ نبی اگر شدائد مصائب سے امن میں رہے تو اُن کی صبر کی قوت کا پتہ لوگوں کو کیسے معلوم ہو۔پھر بہت سے اخلاقِ فاضلہ اس قسم کے ہیں کہ وہصرف نزولِ مصائب