۹؍اگست ۱۹۰۴ء؁ بمقام قادیان اپنی نیک نیت میں فرق نہ لائو بعض لوگوں کے ایک مسجد کے تناز عہ پر آپ نے فرمایا : خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ زیادہ بزرگ تم میں سے وہ ہے جو تقویٰ میں زیادہ ہے۔جیسے قرآنُ شریف میں ہے۔ ان اکرمکم عند اﷲ اتقکم (الحجرات : ۱۴) اور متقیوں کے صفات میں سے ہے کہ وہ بالغیب ایمان لتے ہیں۔نماز پڑھتے ہیں اور مما رزقنھم ینفقون (البقرۃ : ۴) یعنی علم،مال اور دوسرے قویٰ ظاہری اور باطنی جو کچھ دیا ہے۔سب کو اﷲ تعالیٰ کی راہ میں صرف کرتے ہیں۔ایسے لوگوں کے لیے خدا تعالیٰ نے بڑے بڑے وعدے انعام کے کئے ہیں۔ انسان ایک کارِ خیر کے لیے جب نیت کرتا ہے تو اس کو چاہیے کہ پھر اس میں کسی قسم کا فرق نہ لاوے۔اگر کوئی دوسرا جو اس میں حصہ لینے والا تھا یا نہ تھا، مزاحم ہو اور بددیانتی کرے تو بھی اول الذکر کو چاہیے کہ وہ کسی قسم کا تغیر اپنے ارادہ میں نہ کرے۔اس کو اس کی نیت کا اجر ملے گا اور دوسرا اپنی شرارت کی سزا پاوے گا۔ دنیا میں لوگوں کو ایک یہ بھی بڑی غلطی لگی ہے کہ دوسرے سے مقابلہ کے وقت یا اس کی نیت میں فرق آتا دیکھ کر اپنی نیت کو جو خیر پر مبنی ہوتی ہے،بدل دیا جاتاہے۔ اس طرح سے بجائے ثواب کے عذاب حاصل ہوتا ہے۔یاد رکھو کہ جو شخص خدا تعالیٰ کے لیے نقصان روانہیں رکھتا وہ عند اﷲ کسی اجر کا بھی مستحق نہیں۔خدا کے لیے جو جان تک دریغ نہ کرنی چاہیے۔پھر زمین وغریہ کیا شئے ہے۔جس قدر کوئی دکھ اٹھانے کے لیے تیار ہو گا اتنا ہی اُسے ثواب ملے گا۔اگر کوئی شخص یہ اصول اختیار نہیں کرتا تو اس نے ابھی تک ہمارے سلسلہ کا مطلب اور مقصود ہی نہیں جانا۔جو لوگ اس جماعت میں دخال ہیں۔اگر وہ عام لوگوں سے اخلاق،مروت ارو ہمدردی برتتے ہیں تو اُن میں اور دوسرے لوگوں سے کیا فرق ہوا؟ شریر کی شرارت کو شریر کے حوالاہ کرو۔اور اپنے نیک جوہر دکھائو۔تب تمیز ہوگی۔دنیاوی تنازعات کے وقت مالی نقصان برداشت کرنے اور جو رنفس سے کام لینے کے سوا چارہ نہیں ہوا کرتا اور نہ انسان کو ہمیشہ اس قسم کے مواقع ہاتھ آتے ہیں کہ وہ فطرت کے یہ نیک جوہر دکھاسکے۔اس لیے اگر کوئی ایسا موقعہ ہاتھ آجاوے تو اُسے غنیمت خیال کرنا چاہیے۔