نزدیک کس قدر جر کے مستحق ہوتے ہیں۔یہ درجاتِ قرب بھی ان کو قضاء و قدر سے ہی ملتے ہیں ورنہ اگر تنہائی میں اُن کو اپنی گردنیں کاٹنی پڑیں تو شاید بہت تھوڑے ایسے نکلیں جوشہید ہوں۔اسی لیے اﷲ تعالیٰ غرباء کو بشارت دیتا ہے۔
ولنبلو نکم بشیٔ من الخوف والجوع ونقص من الاموال والانفس والثمرت وبشر الصابرین الذین اذا اصا بتہم مصیبۃ قالو اانا لﷲ وانا الیہ راجعون (البقرۃ : ۱۵۶، ۱۵۷)
اس کا یہی مطلب ہے کہ قضاو قدر کی طرف سے ان کو ہر ایک قسم کے نقصان پہنچتے ہیں اور پھر وہ صبر کرتے ہیں تو خد اتعالیٰ کی عنائتیں اور رحمتیں ان کے شامل حال ہوتی ہیں،کیونکہ تلخ زندگی کا حصہ ان کو بہت ملتا ہے،لیکن امراء کو یہ کہاں نصیب۔امیروں کا تو یہ حال ہے کہ پنکھا چل رہا یہ۔آرام سے بیٹھے ہیں۔خدمتگار ٔچائے لایا ہے۔اگر اس میں ذرا سا قصور بھی ہے ۔خواہ میٹھا ہی کم یا زیادہ ہے تو غصہ سے بھر جاتے ہیں۔خدمتگار پر ناراض ہوتے ہیں۔بہت غصہ ہو تو مارنے لگ جاتے ہیں۔حالانکہ یہ مقام شکر کا ہے، کہ اُن کو ہل جوتنا نہیں پڑا۔کاشتکاری کے مصائب برداشت نہیں کیے۔چولہے کے آگے بیٹھ کر آگ کے سامنے تپش کی شدت برداشت نہیں کی اور پکی پکائی شئے محض خدا کے فضل سے سامنے آگئے ہے۔چاہیے تو یہ تھا کہ خد اکے احسانوں کو یاد کر کے رطب اللساں ہوتے۔لیکن اس کے سارے احسانوں کو بھول کر ایک ذرا سی بات پر سارا کیا کرایا رائیگاں کردیتے ہیں؛ حالانکہ جیسے وہ خدمتگار انسان ہے اور اس سے غلطی اور بھول ہو سکتی ہے ویسے ہی وہ (امری) بھی تو انسان ہے۔اگر اس خدمتگار کی جگہ خود یہ کام کرتا ہوت اتو کیا یہ غلطی نہ کرتا؟ پھر اگر ماتحت آگے سے جواب دے تو اس کی اور شامت آتی ہے اور آقاکے دل میں رہ رہ کر جوش اُٹھتا ہے کہ یہ ہمارے سامنے کیوں بولت اہے اور اسی لیے وہ خدمتگار کی ذلت کے درپے ہوتا ہے؛ حالانکہ اس کا حق ہے کہ وہ اپنی غلطی کی تلافی کے لیے زبان کشائی کرے۔اس پر مجھے ایک بات یاد آئی ہے کہ سلطان محمود کی (یا ہارون الرشید کی) ایک کنیز تھی۔اُس نے ایک دن بادشاہ کا بستر جو کیا تو اُسے گدگدا اور ملائم اور پھولوں کی خوشبو سے بسا ہوا پاکر اس کے دل میں آیا کہ میں بھی لیٹ کر دیکھوں تو سہی اس میں کیا آرام حاصل ہوتا ہے۔وہ لیٹی تو اسے نیند آگئی۔جب بادشاہ آیا تو اسے سوتا پا کر ناراض ہوا اور تازیانہ کی طزا دی۔وہ کنیز روتی بھی جاتی اور ہنستی بھی جاتی۔بادشاہ نے وجہ پوچھی تو اُس نے کہا کہ روتی تو اس لیے ہوں کہ ضربوں سے درد ہوتی ہے اور ہنستی اس لیے ہوں کہ میں چند لمحہ اس پر سوئی تو مجھے یہ سزا ملی اور جو اس پر ہمیشہ سوتے ہیں ان کو خدا معلوم کسی قدر عذاب بھگتنا پڑے گا۔