کہ دینانگر کے دو ہندو ریئس آپ کی زیارت کو تشریف لائے۔ ان کے ساتھ بھی چند آدمی تھے۔ انھوں نے نہایت ادب اور احترام کے ساتھ سلام عرض کیا اور پھر طاعون کی مصیبت کا رونا رونا شروع کیا کہ بڑا اختلاف مذاہب کا ہو گیا ہے۔ اس پر حضرت اقدس نے فرمایا: اس زمانہ میں نِرا اختلافِ مذاہب ہی نہیں۔ اختلاف مذاہب کے سوا لوگوں نے خداتعالیٰ کہ بالکل چھوڑ دیا ہے۔ اس لیے خداتعالیٰ نے اپنی سنت کے موافق یہ عذاب نازل کیا ہے۔ کیونکہ دنیا میں فسق و فجور بہت بڑھ گیا ہے۔ شرارتوں اور چالاکیوں کی کوئی حد نہیں رہی ہے۔ طاعون کو اﷲتعالیٰ نے مامور کرکے بھیجا ہے جو اس کے نوکر کی طرح ہے۔ خداتعالیٰ کے حکم کے بغیر تو ایک پتہ اور ذرہ بھی حرکت نہیں کر سکتا۔ یہ اور بدبختی ہے کہ باوجود یکہ طاعون ایک خطرناک ڈرانے والا ہے مگر اس پر بھی خداتعالیٰ کی طرف توجہ نہیں کرتے اور خداتعالیٰ کی باتوں کو ہنسی اور ٹھٹھے میں اڑاتے ہیں۔ خداتعالیٰ سے نہیں ڈرتے اور دل پاک و صاف نہیں کرتے ہیں۔ خداتعالیٰ نے مجھے خبردی ہے کہ جبتک اہلِ دنیا اپنی اصلاح اور تبدیلی نہیں کریں گے اس وقت تک اس عذاب کو نہیں اٹھائے گا۔ میں دیکھتا ہوں کہ لوگوں کو اس طرف بھی بالکل توجہ نہیں ہے۔ جب کسی گائوں یا شہر میں بیماری پڑتی ہے تو چند روز کے لیے ایک خوف پیدا ہوتا ہے۔ مگر وہ خوف بھی اﷲتعالیٰ کے واسطے نہیں اور نہ ایسا کہ اس کے ذریعہ کوئی اصلاح کریں بلکہ موت کا ڈر ہوتا ہے کہ کہیں ہم بھی مرنہ جاویں اور یہ جائداد اور اسباب کسی دوسرے کے قبضہ میں نہ چلا جاوے۔ یو نہی ذراسا وقفہ ہوتاہے۔ پھر وہی شرارت اور شوخی۔ اور نہیں ڈرتے کہ اس کے دورے بہت لمبے ہوتے ہیں۔ ریئس : جناب! بظاہر زمانہ اچھا بھی معلوم ہوتا ہے۔ اکثر لوگوں کو دیکھا ہے کہ بھگتی وغیرہ کرتے ہیں حضرت اقدس : دل نہیں ہیں۔ جوکچھ ہے پوست ہی پوست ہے۔ ظاہر داری کے طور پر اگر کچھ کیا جاتا ہے تو کیا جاتاہے۔ دل والے روح ہی اور ہوتے ہیں۔ ان کی آنکھیں صاف ہوتی ہیں۔ ان کی زبان صاف ہوتی ہے۔ ان کے چال چلن میں ایک خاص امتیناز ہوتا ہے۔ وہ ہر وقت اﷲتعالیٰ سے لرزاں ترساں رہتے ہیں۔ نرِی زبان درازی سے کوئی اﷲتعالیٰ کو خوش نہیں کر سکتا۔ مجازی حکام کو جو اصل حالات سے نا واقف ہیں کوئی خوش کر لیوے۔ مگر اﷲتعالیٰ کی نظر تو دل پر ہے اور وہ دل کے مخفی خیالات تک کو جانتا ہے۔ پس جب تک انسان سچے دل سے خداتعالیٰ کی طرف نہیں آتا۔ ریاکاری اور طاہر داری سے کچھ نہیں بنتا۔ خداتعالیٰ سچی تبدیلی چاہتا ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ ابھی وہ پیدا نہیں ہوئی۔ جب لوگ تبدیلی کریں گے تو میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر کچھ بھی حصہ لوگوں کا دُرست ہو جاوے گا تو اﷲتعالیٰ رحم کرے گا۔ یہ تو اور بھی چالاکی ہے کہ لوگوں کے سامنے نیک بنتے ہیں اور اپنے آپ کو بڑا متقی اور خدا ترس