ظاہر کرتے ہیں اور اندرونی طور پر بڑی خرابیاں ان میں موجود ہوتی ہیں۔ میں دیکھتا ہوں کہ دنیا کے ظاہری بحث و مباحثہ می ہزاروں مذاہب پیدا ہو گئے ہیں۔ مگر خداتعالیٰ دیکھتا ہے کہ اس کے ساتھ معاملہ کیساہے۔ اگر اﷲتعالیٰ سے معاملہ صاف نہ ہو تو یہ چالاکیاں اور بھی خداتعالیٰ کے غضب کو بھڑ کاتی ہیں۔ چاہیے تو یہ کہ انسان خدا ساتھ معاملہ صاف کرے اور پوری فرمانبرداری اور اخلاص کے ساتھ اس کی طرف رجوع کرے اور اس کے بندوں کو بھی کسی قسم کی اذیت نہ دے۔ ایک شخص گیروی کپڑے پہن کر یا سبز لباس کر کے فقیر بن سکتا ہے اور دنیا دار اس کو فقیر بھی سمجھ لیتے ہیں مگر خداتعالیٰ تو اس کو خوب جانتا ہے کہ وہ کس قسم کا آدمی ہے اور وہ کیا کررہا ہے۔ پس طاعون کا اصل اور صحیح علاج یہی ہے کہ انسان خداتعالیٰ کے حضور اپنے کناہوں سے توبہ کرے اور اس کی حدبندیوںکو نہ توڑے اور اس کی مخلوق کے ساتھ رحم کرے بدمعا ملگی نہ کرے۔ یہ سب کام اخلاص کے ساتھ کرے دکھانے کی نیت سے نہ کرے۔ اگر اس قسم کی تبدیلی کرے گا، تو می یقین رکھتاہوں کہ اﷲتعالیٰ رحم کے ساتھ اس پر نظر کرے گا۔
ریئس: جناب لوگ باہر جاتے ہیں اور اس کو بھی مفید سمجھتے ہیں۔مگر مولوی لوگ مخالفت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم گھوں سے نکلنے میں خدا کے ساتھ شِرک کرتے ہو۔ مولویوں کے ایسے فتوے دینے سے بھی بہت سے لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔
حضرت اقدس: اﷲتعالیٰ تو علاج سے منع نہیں کرتا ہے۔ علاج بھی اسی نے رکھے ہیں۔
لوگ دنیا کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے واسطے قسم قسم کے منسوبے کرتے ہیں۔ اور یا کاری سے کام لیتے ہیں۔ مگر جب تک خداتعالیٰ کسی کو منتخب اور بر گزیدہ نہ کرے کچھ نہیں ہو سکتا۔ دیکھو کسی کو بھوک پیاس لگتی ہے تو وہ روٹی کھاتا ہے یا پانی پیتا ہے۔ اسی طرح پر بیماریوں کے علاج بھی ہیں اور اشیاء میں خواص بھی اسی کے رکھے ہوتے ہیں۔ مولویوں کی غلطی ہے جو ایسا کرتے ہیں اور لوگوں کو تباہ کرتے ہیں۔ خداتعالیٰ تو منع کرتا ہے کہ انسان عذاب کی جگہ پر رہے۔ لیکن ہان جب بیماری شدت کے ساتھ پھیل جاوے تو یہ مناسب نہیں کہ انسان اس گائوں یا شہر سے نکل کر کسی دوسرے گائوں یا شہر میں جاوے اور یہ اس لیے منع ہے کہ جو لوگ وبازوہ گائوں سے نکلتے ہیں وہ متاثر آب و ہوا سے نکل کر دوسری جگہ کو متاثر کرتے ہیں اور پھر بیمار ہو کر مرجاتے ہیں۔ ایسا ہی یہ بھی منع ہے کہ جہاں وبا پڑی ہوئی ہو وہاں بھی کوئی آدمی تندرست جگہ سے نہ جاوے، لیکن یہ کبھی منع نہیں ہے کہ لوگ اپنے گھروں سے نکل کر باہر کھلے میدانوں میں اور کھیتوں میں نہ جاویں بلکہ یہ ضروری ہے اور اس سے عموماً فائدہ پہنچتا ہے۔ جہاں طاعون ہو فوراً اس گھر کو خالی کر دینا چاہیے۔ اور باہر کھیتوں یا کھلے میدانوں میں بیشک چلے جائو۔ بلکہ ایسا کرنا ضروری ہے۔