کیونکہ وہ دنیا کے آسائش و آرام کے آرزو مند نہیں ہوتے۔
ریا کاری ایک بہت بڑا گند ہے جو انسان کو ہلاک کر دیتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ریا کار انسان فرعون سے بھی بڑھ کر شقی اور بدبخت ہوتا ہے۔ وہ خداتعالیٰ کی عظمت اور جبروت کو نہیں چاہتے بلکہ اپنی عزت اور عظمت منوانا چاہتے ہیں۔ لیکن جن کو خدا پسند کرتا ہے وہ طبعاً اس سے متنفر ہوتے ہیں۔ ان کی ہمت اور کوشش اسی ایک امر میں صرف ہوتی ہے کہ اﷲتعالیٰ کی عظمت اور اس کا جلال ظاہر ہو اور دنیا اس سے واقف ہو۔ وہ ایسی حالت میں ہوتے ہیں اور پسند کرتے ہیں کہ دنیا ان کو نہ پہچان سکے، مگر ممکن نہیں ہوتا کہ دنیا ان کو چھوڑ سکے کیونکہ وہ دنیا کے فائدہ کے لیے آتے ہیں۔ ان لوگوں کے جو دشمن اور مخالف ہوتے ہیں ان سے بھی ایک فائدہ پہنچتا ہے۔ کیونکہ اﷲتعالیٰ کے نشانات ان کے سبب سے ظاہر ہوتے ہیں۔ اور حقائق و معارف کھلتے ہیں۔ ان کی چھیڑ چھاڑ سے عجیب عجیب انوار ظاہر ہوتے ہیں۔ اگر الوجہل وغیرہ نہ ہوتے تو قرآن شریف کے تیس سیپارے کیونکہ ہوتے؟ ابوبکر رضی اﷲعنہ کی سی فطرت والے ہی اگر سب ہوتے تو ایک دم میں وہ مسلمان ہوجاتے۔ ان کی کسی نشان اور معجزہ کی حاجت ہی نہ ہوتی۔ پس ہم ان مخالفوں کے وجود کو بھی بے مطلب نہیں سمجھتے۔ ان کی چھیڑ چھاڑ اﷲتعالیٰ کے ماموروں کا یہ خاص نشان ہوتاہے کہ وہ اپنی پرستش کرنا نہیں چاہتے۔ جس طرح پر وہ لوگ جو پیر بننے کے خواہشمند ہیں چاہتے ہیں۔ اگرکوئی شخص اپنی پوجا کر ائے تو کیا وجہ ہے کہ دوسرے انسان کے بچے اس پوجا کے مستحق نہ ہوں۔ میں سچ کہتا ہوں کہ ایک مرید اس مرشدسے ہزار درجہ اچھا ہے جو مکر کی گدی پر بیٹھا ہوا ہو کیونکہ مرید کے اپنے دل میںکھوٹ اور دغا نہیں ہے۔ خداتعالیٰ اخلاص کو چاہتا ہے۔ ریاکاری پسند نہیں کرتا ہے۔
۹؍ مئی ۱۹۰۴ء بمقام گورداسپور
طاعون کا عذاب
ایک ہندو ریئس کے بعض استفسارات کے جوابات
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام درختوں کے سایہ میں حسب معمول تشریف فرماتھے: